حدیث نمبر: 19051
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ كُنْيَتُهُ أَبُو عِمْرَانَ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: سَأَلَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ بِمَكَّةَ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً، قَالَ بَقِيَّةُ: وَسَمِعْتُهُ قَبْلَ أَنْ أُحَدِّثَهُمَا بِأَرْبَعِينَ سَنَةً فَقُلْتِ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسَدِ السُّلَمِيُّ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كُنْتُ سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا، فَجَمَعَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا دِرْهَمًا فَاشْتَرَيْنَا أُضْحِيَّةً بِسَبْعَةِ دَرَاهِمَ، وَأَمَرَ أَنْ يَأْخُذَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. ⦗٤٥٠⦘ قَالَ بَقِيَّةُ: قُلْتُ لِحَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ: مَنِ السَّابِعُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي. قُلْتُ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ

ابو اسد سلمی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ساتواں تھا تو ہر ایک نے ایک ایک درہم جمع کروایا تو سات درہم کی ہم نے قربانی خریدی اور آپ ﷺ نے قربانی کو قابو کرنے کا حکم دیا۔ بقیہ کہتے ہیں کہ میں نے حماد بن زید سے پوچھا: ”ساتواں کون تھا؟“ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا۔ میں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ تھے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19051
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جدًا
تخریج حدیث «ضعيف جدًا»