السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: ما لفظ البحر وطفا من ميتة باب: اس مردار کا بیان جسے سمندر باہر پھینک دے یا جو پانی پر تیرنے لگے۔
حدیث نمبر: 18987
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ سَعْدٍ الْحَارِثِيِّ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ الْحِيتَانِ يَقْتُلُ بَعْضُهَا بَعْضًا أَوْ تَمُوتُ صَرَدًا، فَقَالَ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ. قَالَ سَعْدٌ: ثُمَّ سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن ابوہریرہ رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سمندر کے باہر پھینکی ہوئی چیز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے (یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے) اس کے کھانے سے منع کر دیا۔