السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: ما لفظ البحر وطفا من ميتة باب: اس مردار کا بیان جسے سمندر باہر پھینک دے یا جو پانی پر تیرنے لگے۔
حدیث نمبر: 18986
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَمَّا لَفَظَ الْبَحْرُ فَنَهَاهُ عَنْ أَكْلِهِ. قَالَ نَافِعٌ: ثُمَّ انْقَلَبَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فَدَعَا بِالْمُصْحَفِ فَقَرَأَ: {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ} [المائدة: ٩٦]. قَالَ نَافِعٌ: فَأَرْسَلَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ فَكُلْهُ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابوہریرہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سمندر کے باہر پھینکے ہوئے شکار کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اسے نہ کھایا جائے۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قرآن لے کر آئے اور یہ آیت تلاوت کی ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ﴾ [سورة المائدة: 96] نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے عبدالرحمن بن ابوہریرہ کو بلانے بھیجا کہ اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔