السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: ما جاء في البهيمة تريد أن تموت فتذبح باب: اس چوپائے کے متعلق کیا مروی ہے جو مرنے کے قریب ہو تو اسے ذبح کر دیا جائے۔
حدیث نمبر: 18954
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ شَاةٍ ذُبِحَتْ فَتَحَرَّكَ بَعْضُهَا فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْكُلَهَا، ثُمَّ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ زَيْدٌ: إِنَّ الْمَيْتَةَ، أَظُنُّهُ قَالَ: لَتَتَحَرَّكُ، وَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ عَنْ زَيْدٍ.حافظ ثناء اللہ
ابومرہ کے غلام عقیل نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ایک ذبح شدہ بکری کا بعض حصہ حرکت کرتا ہے، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کھانے کی اجازت دی، پھر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے کہا: مردار میرے خیال میں حرکت کرتا ہے، نہ کھاؤ۔