السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: ما جاء في البهيمة تريد أن تموت فتذبح باب: اس چوپائے کے متعلق کیا مروی ہے جو مرنے کے قریب ہو تو اسے ذبح کر دیا جائے۔
حدیث نمبر: 18955
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ حَاضِرَ بْنَ مُهَاجِرٍ أَبَا عِيسَى الْبَاهِلِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ ذِئْبًا نَهَبَ فِي شَاةٍ فَذَكَّوْهَا بِمَرْوَةٍ فَرَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَكْلِهَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی بکری میں بھیڑیا کچلیاں گاڑ دیتا ہے، پھر وہ اس کو پتھر سے ذبح کر لیتے ہیں تو نبی ﷺ نے ”اس کے کھانے کی اجازت دی۔“