السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: ما جاء في البهيمة تريد أن تموت فتذبح باب: اس چوپائے کے متعلق کیا مروی ہے جو مرنے کے قریب ہو تو اسے ذبح کر دیا جائے۔
حدیث نمبر: 18953
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ شَاةً وَهُوَ يَرَى أَنَّهَا قَدْ ⦗٤٢٠⦘ مَاتَتْ فَتَحَرَّكَتْ فَسَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَهُ فَقَالَ: كُلْهَا، فَسَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ لَهُ: لَا تَأْكُلْهَا فَإِنَّ الْمَيْتَةَ قَدْ تَتَحَرَّكُ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن زید فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بکری ذبح کی، اس کے خیال میں وہ مر گئی، لیکن اس نے حرکت کی، اس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: کھا لو، جب زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو انہوں نے کہا: نہ کھاؤ کیونکہ مردہ کبھی حرکت بھی کرتا ہے۔