حدیث نمبر: 18952
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرٌو هُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَلْ خَصَّكُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: مَا خَصَّنَا بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً إِلَّا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا. قَالَ: فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً فَإِذَا فِيهَا: لَعَنَ اللهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللهِ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے تمہارے لیے کوئی چیز مخصوص کی ہے؟ فرماتے ہیں: عام لوگوں سے ہمارے لیے کچھ خاص تو نہیں کیا لیکن جو میری تلوار کے میان میں ہے۔ پھر انہوں نے ایک صحیفہ نکالا جس میں تھا کہ: ”اللہ اس پر لعنت فرمائے جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرتا ہے اور جو زمین کی علامات کو چوری کرتا ہے اور اپنے والدین پر لعنت کرنے والے شخص پر اور جو بدعتی انسان کو جگہ دے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18952
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم ١٩٧٨»