کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس جانور کا بیان جو اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ذبح کیا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 18951
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ: إِنِّي لَا آكُلُ مِمَّا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ، وَلَا آكُلُ إِلَّا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُعَلَّى بْنِ أَسَدٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی ملاقات زید بن عمرو بن نفیل سے بلدح کی نچلی جانب ہوئی۔ یہ وحی نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ زید نے آپ ﷺ کے سامنے گوشت پیش کیا تو آپ ﷺ نے کھانے سے انکار کر دیا، اور فرمایا: ”جو تھانوں پر ذبح کیا جائے وہ میں نہیں کھاتا۔ میں تو صرف وہ کھاتا ہوں جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18951
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ٣٠٢٦»
حدیث نمبر: 18952
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرٌو هُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَلْ خَصَّكُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: مَا خَصَّنَا بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً إِلَّا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا. قَالَ: فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً فَإِذَا فِيهَا: لَعَنَ اللهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللهِ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے تمہارے لیے کوئی چیز مخصوص کی ہے؟ فرماتے ہیں: عام لوگوں سے ہمارے لیے کچھ خاص تو نہیں کیا لیکن جو میری تلوار کے میان میں ہے۔ پھر انہوں نے ایک صحیفہ نکالا جس میں تھا کہ: ”اللہ اس پر لعنت فرمائے جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرتا ہے اور جو زمین کی علامات کو چوری کرتا ہے اور اپنے والدین پر لعنت کرنے والے شخص پر اور جو بدعتی انسان کو جگہ دے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18952
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم ١٩٧٨»