السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: المسلم يرسل كلبه المعلم على صيد فخالطه ما لم يرسله مسلم باب: مسلمان اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑے، پھر اس کے ساتھ کوئی ایسا (جانور) شامل ہو جائے جسے کسی مسلمان نے نہ چھوڑا ہو (تو اس کا حکم)۔
حدیث نمبر: 18921
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنْ خَالَطَ كَلْبُكَ كِلَابًا فَقَتَلْنَ وَلَمْ يَأْكُلْنَ لَا تَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.حافظ ثناء اللہ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے شکار کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے حدیث کو ذکر کیا جس میں یہ تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیرا کتا دوسرے کتوں کے ساتھ مل کر شکار کو قتل کر دے اور اس شکار کو کھائے نہیں تو آپ اس سے کچھ نہ کھائیں کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ کس نے اس کو قتل کیا ہے۔“