السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: المسلم يرسل كلبه المعلم على صيد فخالطه ما لم يرسله مسلم باب: مسلمان اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑے، پھر اس کے ساتھ کوئی ایسا (جانور) شامل ہو جائے جسے کسی مسلمان نے نہ چھوڑا ہو (تو اس کا حکم)۔
حدیث نمبر: 18920
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُرْسِلُ كَلْبِي عَلَى الصَّيْدِ، فَذَكَرَهُ. ⦗٤١٠⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں۔