السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: من رمى صيدا أو طعنه أو أرسل كلبا فقطعه قطعتين أو قطع رأسه أو بطنه أو صلبه باب: اس شخص کا بیان جس نے کسی شکار پر تیر چلایا، یا اسے نیزہ مارا، یا کتا چھوڑا اور اس نے اس کے دو ٹکڑے کر دیے، یا اس کا سر، یا پیٹ یا کمر کاٹ دی۔
حدیث نمبر: 18922
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ سَيْفٍ، حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا فِي أَرْضِ صَيْدٍ فَأَرْمِي بِقَوْسِي فَمِنْهُ مَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ وَمِنْهُ مَا لَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ وَأُرْسِلُ كَلْبِي الْمُكَلَّبَ فَمِنْهُ مَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ وَمِنْهُ مَا لَمْ أُدْرِكْ ذَكَاتَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ وَكَلْبُكَ وَيَدُكَ فَكُلْ ذَكِيٌّ وَغَيْرُ ذَكِيٍّ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: ہم شکار کے علاقے میں رہتے ہیں، میں اپنی کمان سے شکار کرتا ہوں، بعض اوقات ذبح کا موقع مل جاتا ہے اور کبھی ذبح کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو تیری کمان، کتا، ہاتھ تجھ پر لوٹ دے اسے کھا لو ذبح ہو یا نہ ہو۔“