السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: المسلم يرسل كلبه المعلم على صيد فخالطه ما لم يرسله مسلم باب: مسلمان اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑے، پھر اس کے ساتھ کوئی ایسا (جانور) شامل ہو جائے جسے کسی مسلمان نے نہ چھوڑا ہو (تو اس کا حکم)۔
حدیث نمبر: 18919
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ فَقُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا آخَرَ لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ. فَقَالَ: " لَا تَأْكُلْهُ فَإِنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکار کے بارے میں پوچھا کہ میں اپنا کتا شکار پر چھوڑتا ہوں تو اس کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاتا ہوں، مجھے معلوم نہیں کہ دونوں میں سے کس نے شکار کو پکڑا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو شکار کو نہ کھا؛ کیونکہ تو نے اپنے کتے کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا تھا، دوسرے کتے پر نہیں۔“