السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: الإرسال على الصيد يتوارى عنك ثم تجده مقتولا باب: شکار پر جانور چھوڑنے کا بیان جو تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جائے، پھر تم اسے مردہ حالت میں پاؤ۔
حدیث نمبر: 18907
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي ⦗٤٠٦⦘ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَرْمِي الصَّيْدَ فَأَطْلُبُ الْأَثَرَ بَعْدَ لَيْلَةٍ، قَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ أَثَرَ سَهْمِكَ فِيهِ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ سَبْعٌ فَكُلْ ". قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بِشْرٍ فَقَالَ: قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ: عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ سَهْمَكَ فِيهِ لَمْ تَرَ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَهُ وَتَعْلَمُ أَنَّهُ قَتَلَهُ فَكُلْهُ "..حافظ ثناء اللہ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں شکار کو تیر مار کر ایک رات کے بعد اس کو تلاش کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب آپ اپنے تیر کا نشان شکار میں پائیں اور درندوں نے اس سے کچھ بھی نہ کھایا ہو تو آپ کھا لیں۔“
(ب) عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب آپ اپنے تیر کے نشان کے علاوہ کوئی دوسرا نشان اس میں نہ دیکھیں اور آپ کو یقین ہو کہ آپ نے اس کو قتل کیا ہے تو کھالو۔“