السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: الإرسال على الصيد يتوارى عنك ثم تجده مقتولا باب: شکار پر جانور چھوڑنے کا بیان جو تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جائے، پھر تم اسے مردہ حالت میں پاؤ۔
حدیث نمبر: 18906
فذَكَرَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا دَاوُدُ هُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ هُوَ الشَّعْبِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَحَدَنَا يَرْمِي فَيَقْتَفِي أَثَرَهُ الْيَوْمَ وَالْيَوْمَيْنِ فَيَجِدُهُ مَيِّتًا وَفِيهِ سَهْمُهُ أَيَأْكُلُ؟ قَالَ: " نَعَمْ إِنْ شَاءَ ". أَوْ قَالَ: " يَأْكُلُ إِنْ شَاءَ ".حافظ ثناء اللہ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم میں سے کوئی شکار کو تیر مارنے کے بعد ایک یا دو دن اس کا پیچھا کرتا ہے تو مردہ حالت میں شکار کو پا لیتا ہے، جس میں اس کا تیر بھی موجود ہے؟ کیا وہ اس کو کھا لے؟ فرمایا: ”اگر چاہے تو کھا لے۔“