السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: الإرسال على الصيد يتوارى عنك ثم تجده مقتولا باب: شکار پر جانور چھوڑنے کا بیان جو تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جائے، پھر تم اسے مردہ حالت میں پاؤ۔
حدیث نمبر: 18899
وَعَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَيْدٍ فَقَالَ: إِنِّي رَمَيْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَأَعْيَانِي وَوَجَدْتُ سَهْمِي فِيهِ مِنَ الْغَدِ وَقَدْ عَرَفْتُ سَهْمِي. فَقَالَ: " اللَّيْلُ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ عَظِيمٌ، لَعَلَّهُ أَعَانَكَ عَلَيْهِ شَيْءٌ، انْبِذْهَا عَنْكَ ". أَخْبَرَنَا بِهِمَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُمَا.حافظ ثناء اللہ
ابو رزین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص شکار لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: میں نے اس کو تیر مارا اور تلاش کرتے کرتے اس نے مجھے تھکا دیا، تو صبح کے وقت میں نے اسے پا لیا اور اپنا تیر پہچان لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”رات اللہ رب العزت کی عظیم مخلوق ہے، شاید کسی دوسری چیز نے آپ کی مدد کی ہو، اس کو پھینک دو۔“