السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: الإرسال على الصيد يتوارى عنك ثم تجده مقتولا باب: شکار پر جانور چھوڑنے کا بیان جو تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جائے، پھر تم اسے مردہ حالت میں پاؤ۔
حدیث نمبر: 18898
فِيمَا رَوَى أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنِ النُّفَيْلِيِّ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَامِرٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَبْيًا، فَقَالَ: " مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا؟ ". قَالَ: رَمَيْتُهُ أَمْسِ فَطَلَبْتُهُ فَأَعْجَزَنِي حَتَّى أَدْرَكَنِي الْمَسَاءُ، فَرَجَعْتُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ اتَّبَعْتُ أَثَرَهُ فَوَجَدْتُهُ فِي غَارٍ أَوْ فِي أَحْجَارٍ، وَهَذَا مِشْقَصِي فِيهِ أَعْرِفُهُ. قَالَ: " بَاتَ عَنْكَ لَيْلَةً وَلَا آمَنُ أَنْ تَكُونَ هَامَّةٌ أَعَانَتْكَ عَلَيْهِ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ".حافظ ثناء اللہ
عطاء بن سائب حضرت عامر سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے ہرن کا تحفہ نبی ﷺ کو پیش کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے کہاں سے حاصل کیا؟“ دیہاتی نے کہا: کل شام میں نے اس کو تیر مارا، تلاش کرتے کرتے، شام کا وقت ہو گیا، میں واپس پلٹ آیا پھر صبح کے وقت میں نے اس کا پیچھا کیا تو یہ غار یا پتھروں کے اندر پڑا ہوا تھا اور میں نے اپنا موجود نیزہ اس میں پہچان لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک رات گزر گئی، ممکن ہے کسی بیماری کی وجہ سے یہ ہلاک ہوا ہو، مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔“