السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: من ترك التسمية وهو ممن تحل ذبيحته باب: اس شخص کا بیان جس نے بسم اللہ چھوڑ دی حالانکہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کا ذبیحہ حلال ہے۔
حدیث نمبر: 18894
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: ثنا أَبُو هَمَّامٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ مِنَّا يَذْبَحُ وَيَنْسَى أَنْ يُسَمِّيَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْمُ اللهِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ". قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: عَامَّةُ حَدِيثِ مَرْوَانَ بْنِ سَالِمٍ مِمَّا لَا يُتَابِعُهُ الثِّقَاتُ عَلَيْهِ. قَالَ الشَّيْخُ: مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ الْجَزَرِيُّ ضَعِيفٌ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَالْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُمَا، وَهَذَا الْحَدِيثُ مُنْكَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو ذبح کرتے وقت «بِسْمِ اللّٰهِ» کہنا بھول جاتا ہے؟“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا نام ہر مسلمان پر ہے۔“
ابو احمد (ابن عدی) فرماتے ہیں: مروان بن سالم کی اکثر احادیث ایسی ہیں جن میں ثقہ راوی ان کی متابعت نہیں کرتے۔ مروان بن سالم جزری ضعیف ہے، اسے امام احمد بن حنبل، امام بخاری اور دیگر نے ضعیف قرار دیا ہے، اور یہ حدیث اس سند کے ساتھ منکر ہے۔