السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: من ترك التسمية وهو ممن تحل ذبيحته باب: اس شخص کا بیان جس نے بسم اللہ چھوڑ دی حالانکہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کا ذبیحہ حلال ہے۔
حدیث نمبر: 18893
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗٤٠٢⦘ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " مَنْ ذَبَحَ فَنَسِيَ أَنْ يُسَمِّيَ فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ وَلْيَأْكُلْ وَلَا يَدَعْهُ لِلشَّيْطَانِ إِذَا ذَبَحَ عَلَى الْفِطْرَةِ ".حافظ ثناء اللہ
عطاء حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جو شخص ذبح کرتے وقت «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھنا بھول گیا تو وہ کھاتے وقت «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھ کر کھا لے اور شیطان کے لیے اس کو نہ چھوڑے، جبکہ اس نے فطرتِ اسلام پر اس کو ذبح کیا ہے۔