السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: من ترك التسمية وهو ممن تحل ذبيحته باب: اس شخص کا بیان جس نے بسم اللہ چھوڑ دی حالانکہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کا ذبیحہ حلال ہے۔
حدیث نمبر: 18895
وَفِيمَا رَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الصَّلْتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَبِيحَةُ الْمُسْلِمِ حَلَالٌ ذَكَرَ اسْمَ اللهِ أَوْ لَمْ يَذْكُرْ؛ إِنَّهُ إِنْ ذَكَرَ لَمْ يَذْكُرْ إِلَّا اسْمَ اللهِ ". أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
ثور بن یزید رحمہ اللہ سے نقل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان کا ذبیحہ حلال ہے، اگرچہ اس نے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا ہو یا نہ، کیوں کہ وہ اللہ کا نام ذکر کرے یا نہ کرے، وہ اللہ کا نام ہی لیتا ہے۔“