السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
(إذا قتل الكلبُ المُعَلَّمُ الصيدَ، فإنه يجوز أكلُه) باب: سکھایا ہوا کتا اگر شکار کو قتل کر بھی دے تو اسے کھایا جاسکتا ہے
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي كِلَابًا مُكَلَّبَةً فَأَفْتِنِي فِي صَيْدِهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ لَكَ كِلَابٌ مُكَلَّبَةٌ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ ". قَالَ: " ذَكِيٌّ أَوْ غَيْرُ ذَكِيٍّ ". قَالَ: وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ؟ قَالَ: " وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ ". هَذَا مُوَافِقٌ لِحَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا أَنَّ حَدِيثَ أَبِي ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْأَكْلِ، وَحَدِيثُ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيٍّ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيِّ وَمِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلْبِ يَصْطَادُ قَالَ: " كُلْ، أَكَلَ أَوْ لَمْ يَأْكُلْ " فَصَارَ حَدِيثُ عَمْرٍو بِهَذَا مَعْلُولًا.عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو ثعلبہ دیہاتی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے پاس سکھائے ہوئے کتے ہیں، ان کے شکار کے بارے میں مجھے فتویٰ دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تیرا کتا سکھایا ہوا ہو اور شکار کو روک لے تو کھا لو، ذبح کرو یا نہ کرو۔“ راوی کہتے ہیں: اگر کتا اس سے کھا لے؟ فرمایا: ”اگرچہ کتا شکار سے کھا بھی لے۔“
(ب) عمرو بن شعیب ہذیل کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے کتے کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھاؤ، چاہے کتے نے شکار سے کھایا ہو یا نہ کھایا ہو۔“
شعبی کی سیدنا عدی رضی اللہ عنہ سے روایت داؤد بن عمرو دمشقی اور عمرو بن شعیب کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔ اور اس (شعبہ کی روایت) کی وجہ سے عمرو کی حدیث معلول ہو گئی۔