السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: البزاة المعلمة إذا أكلت باب: سدھائے ہوئے باز جب (شکار میں سے) کھا لیں تو اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا عَلَّمْتَ مِنْ كَلْبٍ أَوْ بَازٍ ثُمَّ أَرْسَلْتَهُ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ ". قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟ قَالَ: إِذَا قَتَلَهُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ ". ⦗٣٩٩⦘ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا فِي الْمَنْعِ إِلَّا أَنَّ ذِكْرَ الْبَازِي فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ لَمْ يَأْتِ بِهِ الْحُفَّاظُ الَّذِينَ قَدَّمْنَا ذِكْرَهُمْ عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَإِنَّمَا أَتَى بِهِ مُجَالِدٌ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَيُذْكَرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ أَوْ بَازَكَ أَوْ صَقْرَكَ عَلَى الصَّيْدِ فَأَكَلَ مِنْهُ فَكُلْ وَإِنْ أَكَلَ نِصْفَهُ. فَهَذَا جَمَعَ بَيْنَهُمَا فِي الْإِبَاحَةِ. وَيُذْكَرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِذَا أَكَلَ الْكَلْبُ فَلَا تَأْكُلْ، وَإِذَا أَكَلَ الصَّقْرُ فَكُلْ؛ لِأَنَّ الْكَلْبَ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَضْرِبَهُ وَالصَّقْرَ لَا تَسْتَطِيعُ فَهَذَا فَرْقٌ بَيْنَهُمَا وَاللهُ أَعْلَمُ. وَفِي حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: إِذَا أَكَلَ الْبَازِي فَلَا تَأْكُلْ. وَهَذَا بِخِلَافِ الْأَوَّلِ. وَرُوِيَ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ صُبَيْحٍ فِي الْبَازِي أَوِ الصَّقْرِ إِذَا أَكَلَ قَالَ: كَرِهَهُ عَطَاءٌ وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: إِذَا أَكَلَ الْبَازُ وَالصَّقْرُ فَلَا تَأْكُلْ.سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تو کتے یا باز کو سکھا کر اللہ کا نام لے کر چھوڑے، ”اگر وہ شکار تیرے لیے روک لے تو کھا لینا“، میں نے پوچھا: اگر وہ قتل کر دیں؟ فرمایا: ”اگر قتل کرنے کے بعد بھی بغیر کھائے شکار کو روک لے تو کھا لیا کرو۔“
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب تو اپنا کتا، باز یا شکرا شکار پر چھوڑے اور وہ شکار سے اگر نصف بھی کھا لے تو آپ شکار کو کھا لیں۔ یہ شکار کھانے کی اباحت کے بارے میں ہے۔
(ج) سعید بن جبیر رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر کتا شکار سے کھا لے تو نہ کھاؤ۔ اگر شکرا کھا لے تو شکار کو کھا لو، کیونکہ کتا شکار کو مارنے کی طاقت رکھتا ہے جبکہ شکرا مارنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ یہ شکرے اور کتے میں فرق ہے۔
(د) سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب باز شکار سے کھا لے تو آپ شکار کو نہ کھائیں۔
(ذ) ربیع بن صبیح باز یا شکرے کے بارے میں کہتے ہیں: جب وہ شکار سے کھا لیں۔ فرماتے ہیں کہ حضرت عطا اور عکرمہ رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ جب باز یا شکرا شکار سے کھا لے تو تم شکار کا گوشت نہ کھاؤ۔