السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: نقض الصلح فيما لا يجوز وهو ترك رد النساء إن كن دخلن في الصلح باب: ناجائز شرط پر صلح کو توڑ دینا، اور وہ عورتوں کو واپس لوٹانے کا ترک کرنا ہے، اگرچہ وہ صلح (کی شرائط) میں شامل ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَقَدْ كَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ أَبِي هُنَيْدٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَوْلِ اللهِ ⦗٣٨٣⦘ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ} [الممتحنة: ١٠]، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُرْوَةُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ صَالَحَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ وَشَرَطَ لَهُمْ أَنَّهُ مَنْ أَتَاهُ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهِ رَدَّهُ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا هَاجَرَ الْمُسْلِمَاتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ اللهُ بِامْتِحَانِهِنَّ فَإِنْ كُنَّ جِئْنَ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يَرُدَّهُنَّ عَلَيْهِمْ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ} [الممتحنة: ١٠]، فَحَبَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ وَرَدَّ الرِّجَالَ.زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کے پاس آیا تو ابن ابی ہنیدہ نے ان سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا: ﴿إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 10] ”جب آپ کے پاس مومنہ عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان کر لیا کرو“ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے انہیں جواب لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب صلح حدیبیہ کی تو اس میں شرط تھی کہ جو بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر آئے گا آپ اس کو واپس کریں گے، لیکن جب مسلمان عورتیں ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں تو اللہ نے حکم دیا اگر وہ اسلام میں رغبت کرتے ہوئے آ جائیں تو ان کا امتحان کر لیا کرو ﴿فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ﴾ [سورة الممتحنة: 10] ”اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ وہ مومنہ ہیں تو کفار کی جانب واپس نہ کرو“۔ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو روک لیا اور مردوں کو واپس کر دیا۔