کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ناجائز شرط پر صلح کو توڑ دینا، اور وہ عورتوں کو واپس لوٹانے کا ترک کرنا ہے، اگرچہ وہ صلح (کی شرائط) میں شامل ہوں۔
حدیث نمبر: 18833
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّهُ قَاضَى ⦗٣٨٢⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشْرِكِي قُرَيْشٍ عَلَى الْمُدَّةِ الَّتِي جَعَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَنْزَلَ اللهُ فِيمَا قَضَى بِهِ بَيْنَهُمْ، فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ يُخْبِرَانِ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَاتَبَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو يَوْمَئِذٍ كَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا فَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ وَأَلْغَطُوا بِهِ أَوْ قَالَ كَلِمَةً أُخْرَى، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: لَمْ يَقُلْ شَيْخُنَا هَذِهِ الْكَلِمَةَ وَرِوَايَتُهُ فِي نُسْخَةٍ: وَامْتَعَظُوا وَأَبَى سُهَيْلٌ إِلَّا ذَلِكَ فَكَاتَبَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَدَّ يَوْمَئِذٍ أَبَا جَنْدَلٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَلَمْ يَأْتِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلَّا رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، وَجَاءَتِ الْمُؤْمِنَاتُ وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ فَلَمْ يُرْجِعْهَا إِلَيْهِمْ لِمَا أَنْزَلَ اللهُ فِيهِنَّ: {إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ} [الممتحنة: ١٠]. قَالَ عُرْوَةُ: فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُهُنَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ} [الممتحنة: ١٢] الْآيَةَ. قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنْهُنَّ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ بَايَعْتُكِ "، كَلَامًا يُكَلِّمُهَا بِهِ، وَاللهِ مَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي الْمُبَايَعَةِ، مَا بَايَعَهُنَّ إِلَّا بِقَوْلِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کے ساتھ حدیبیہ کے دن ایک مدت تک صلح کی، تو اللہ رب العزت نے اس کے بارے میں قرآن نازل کیا جو ان کے درمیان صلح تھی۔
(ب) عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ ﷺ نے سہیل بن عمرو کو معاہدہ تحریر کروایا جس میں سہیل بن عمرو نے یہ شرط رکھی تھی کہ ”ہمارا کوئی آدمی اگرچہ آپ کے دین پر ہو، آپ اسے ہمیں واپس کریں گے“ تو مومنوں نے اس کو ناپسند کیا اور شور کیا یا کوئی دوسری بات کہی۔ اور سہیل بن عمرو کو نبی ﷺ نے معاہدہ تحریر کروایا تو اسی دن ابو جندل رضی اللہ عنہ کو ان کے والد سہیل بن عمرو کے سپرد کیا گیا اور جو مسلمان بھی اس مدت کے اندر مکہ سے آیا، آپ ﷺ نے اسے واپس کر دیا؛ البتہ مومنہ عورتیں، جن میں ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا بھی رسول اللہ ﷺ کے پاس آگئیں تو ان کے گھر والوں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا تو آپ ﷺ نے ان کو واپس نہیں کیا، کیونکہ قرآن نازل ہوا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 10]
”جب مومنہ عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو ان کا امتحان کر لیا کرو، اللہ ان کے ایمانوں کو بہتر جانتا ہے، اگر تم ان کو مومنہ پاؤ تو کفار کی جانب واپس نہ کرو، وہ عورتیں ان کے لیے اور وہ مرد ان عورتوں کے لیے حلال نہیں ہیں“۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس آیت کے ذریعے امتحان لیتے تھے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 12]
”اے نبی! جب آپ کے پاس مومنہ عورتیں آئیں تو اس بات پر بیعت لیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا، چوری، زنا اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کرنا“۔ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جو عورت اس شرط کا اقرار کرتی تو رسول اللہ ﷺ فرما دیتے: ”میں نے تجھ سے بیعت لے لی ہے“، آپ ﷺ صرف کلام فرماتے تھے، اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے کسی عورت کا بیعت کرتے وقت کبھی ہاتھ نہیں چھوا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18833
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18834
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَوْرٍ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى مَا مَضَى، زَادَ: ثُمَّ جَاءَ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ مُهَاجِرَاتٌ، الْآيَةَ، فَنَهَاهُمُ اللهُ أَنْ يَرُدُّوهُنَّ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرُدُّوا الصَّدَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ کے وقت نکلے۔ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ مومنہ عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو اللہ نے ان کو واپس کرنے سے منع کر دیا، صرف حق مہر واپس کرنے کا حکم دے دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18834
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18835
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَقَدْ كَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ أَبِي هُنَيْدٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَوْلِ اللهِ ⦗٣٨٣⦘ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ} [الممتحنة: ١٠]، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُرْوَةُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ صَالَحَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ وَشَرَطَ لَهُمْ أَنَّهُ مَنْ أَتَاهُ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهِ رَدَّهُ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا هَاجَرَ الْمُسْلِمَاتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ اللهُ بِامْتِحَانِهِنَّ فَإِنْ كُنَّ جِئْنَ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يَرُدَّهُنَّ عَلَيْهِمْ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ} [الممتحنة: ١٠]، فَحَبَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ وَرَدَّ الرِّجَالَ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کے پاس آیا تو ابن ابی ہنیدہ نے ان سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا: ﴿إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 10] ”جب آپ کے پاس مومنہ عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان کر لیا کرو“ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے انہیں جواب لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب صلح حدیبیہ کی تو اس میں شرط تھی کہ جو بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر آئے گا آپ اس کو واپس کریں گے، لیکن جب مسلمان عورتیں ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں تو اللہ نے حکم دیا اگر وہ اسلام میں رغبت کرتے ہوئے آ جائیں تو ان کا امتحان کر لیا کرو ﴿فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ﴾ [سورة الممتحنة: 10] ”اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ وہ مومنہ ہیں تو کفار کی جانب واپس نہ کرو“۔ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو روک لیا اور مردوں کو واپس کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18835
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 18836
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَا: هَاجَرَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَجَاءَ أَخَوَاهَا الْوَلِيدُ وَفُلَانٌ ابْنَا عُقْبَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْلُبَانِهَا فَأَبَى أَنْ يَرُدَّهَا عَلَيْهِمَا. وَقَدْ مَضَى فِي رِوَايَةِ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي صُلْحِ حُدَيْبِيَةَ فَقَالَ سُهَيْلٌ: عَلَى أَنْ لَا يَأْتِيَكَ مِنَّا رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ النِّسَاءَ لَمْ يَدْخُلْنَ فِي هَذَا الشَّرْطِ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ اور عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کی جانب حدیبیہ کے سال ہجرت کی تو عقبہ کے دونوں بیٹے بہن کو لینے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے اس کو واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ (ب) زہری رحمہ اللہ نے صلح حدیبیہ کے بارے میں بیان کیا کہ سہیل نے معاہدہ میں مرد کی شرط رکھی تھی۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ عورتیں اس میں شامل ہی نہ تھیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18836
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»