السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: نقض الصلح فيما لا يجوز وهو ترك رد النساء إن كن دخلن في الصلح باب: ناجائز شرط پر صلح کو توڑ دینا، اور وہ عورتوں کو واپس لوٹانے کا ترک کرنا ہے، اگرچہ وہ صلح (کی شرائط) میں شامل ہوں۔
حدیث نمبر: 18834
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَوْرٍ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى مَا مَضَى، زَادَ: ثُمَّ جَاءَ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ مُهَاجِرَاتٌ، الْآيَةَ، فَنَهَاهُمُ اللهُ أَنْ يَرُدُّوهُنَّ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرُدُّوا الصَّدَاقَ.حافظ ثناء اللہ
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ کے وقت نکلے۔ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ مومنہ عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو اللہ نے ان کو واپس کرنے سے منع کر دیا، صرف حق مہر واپس کرنے کا حکم دے دیا۔