السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: نقض الصلح فيما لا يجوز وهو ترك رد النساء إن كن دخلن في الصلح باب: ناجائز شرط پر صلح کو توڑ دینا، اور وہ عورتوں کو واپس لوٹانے کا ترک کرنا ہے، اگرچہ وہ صلح (کی شرائط) میں شامل ہوں۔
حدیث نمبر: 18836
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَا: هَاجَرَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَجَاءَ أَخَوَاهَا الْوَلِيدُ وَفُلَانٌ ابْنَا عُقْبَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْلُبَانِهَا فَأَبَى أَنْ يَرُدَّهَا عَلَيْهِمَا. وَقَدْ مَضَى فِي رِوَايَةِ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي صُلْحِ حُدَيْبِيَةَ فَقَالَ سُهَيْلٌ: عَلَى أَنْ لَا يَأْتِيَكَ مِنَّا رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ النِّسَاءَ لَمْ يَدْخُلْنَ فِي هَذَا الشَّرْطِ.حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ اور عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کی جانب حدیبیہ کے سال ہجرت کی تو عقبہ کے دونوں بیٹے بہن کو لینے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے اس کو واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ (ب) زہری رحمہ اللہ نے صلح حدیبیہ کے بارے میں بیان کیا کہ سہیل نے معاہدہ میں مرد کی شرط رکھی تھی۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ عورتیں اس میں شامل ہی نہ تھیں۔