السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الأذان والإقامة للجمع بين الصلاتين باب: دو نمازوں کو جمع کرنے کے لیے اذان اور اقامت کا بیان
حدیث نمبر: 1880
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا شَبَابَةُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الْمَعْنِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، بِإِسْنَادِ ابْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ حَمَّادٍ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ: بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَلَمْ يُنَادِ فِي الْأُولَى وَلَمْ يُسَبِّحْ عَلَى إِثْرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا قَالَ مَخْلَدٌ: قَالَ: لَمْ يُنَادِ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا هَكَذَا رِوَايَةُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ وَهِيَ أَصَحُّ الرِّوَايَاتِ عَنِ ابْنِ عَمْرٍو رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
حماد نے اسی معنی میں بیان کیا ہے، اس میں ہے کہ ہر نماز کے لیے ایک اقامت کہی اور شروع میں اذان نہیں دی اور نہ ہی ان کے بعد نفلی نماز پڑھی۔ (ب) مخلد کہتے ہیں کہ دونوں کے لیے اذان نہیں کہی۔ اسی طرح سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی صحیح ترین روایت ہے۔