السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما جاء في ذبائح نصارى بني تغلب باب: بنو تغلب کے عیسائیوں کے ذبیحہ کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعْدٍ الْجَارِيِّ أَوْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَا نَصَارَى الْعَرَبِ بِأَهْلِ كِتَابٍ، وَمَا يَحِلُّ لَنَا ذَبَائِحُهُمْ، وَمَا أَنَا بِتَارِكِهِمْ حَتَّى يُسْلِمُوا أَوْ أَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنَّمَا تَرَكْنَا أَنْ نُجْبِرَهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ أَوْ نَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ؛ لِأَنَّ ⦗٣٦٤⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ نَصَارَى الْعَرَبِ، وَأَنَّ عُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَدْ أَقَرُّوهُمْ، وَإِنْ كَانَ عُمَرُ قَدْ قَالَ هَذَا، لِذَلِكَ لَا يَحِلُّ لَنَا نِكَاحُ نِسَائِهِمْ؛ لِأَنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ إِنَّمَا أَحَلَّ لَنَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ الَّذِي عَلَيْهِمْ نَزَلَ.سعد جاری یا عبداللہ بن سعد، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عرب کے عیسائی اہل کتاب نہیں اور ان کا ذبیحہ ہمارے لیے حلال نہیں، یا تو وہ مسلمان ہو جائیں یا ہم انہیں قتل کریں گے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کیوں کر ہم اسلام کے لیے ان پر جبر کریں گے یا انہیں قتل کریں گے؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے عرب کے عیسائیوں سے جزیہ وصول کیا۔ سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو برقرار رکھا۔ اگرچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا کہ ان کی عورتوں سے ہمارے لیے نکاح کرنا جائز نہیں کیونکہ اللہ رب العزت نے ہمارے لیے اہل کتاب سے نکاح کو جائز رکھا ہے، جن پر کتاب نازل ہوئی ہے۔