حدیث نمبر: 18797
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ عُقَيْبَ هَذَا الْحَدِيثِ: وَهَكَذَا حَفِظَ أَهْلُ الْمَغَازِي وَسَاقُوهُ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا السِّيَاقِ فَقَالُوا: رَامَهُمْ عَلَى الْجِزْيَةِ فَقَالُوا: نَحْنُ عَرَبٌ لَا نُؤَدِّي مَا يُؤَدِّي الْعَجَمُ، وَلَكِنْ خُذْ مِنَّا كَمَا يَأْخُذُ بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ، يَعْنُونَ الصَّدَقَةَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا، هَذَا فَرْضٌ عَلَى الْمُسْلِمِينَ. فَقَالُوا: فَزِدْ مَا شِئْتَ بِهَذَا الِاسْمِ لَا بِاسْمِ الْجِزْيَةِ. فَفَعَلَ فَتَرَاضَى هُوَ وَهُمْ عَلَى أَنْ ضَعَّفَ عَلَيْهِمُ الصَّدَقَةَ.
حافظ ثناء اللہ

ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے آخر میں کہا کہ اہل مغازی کو بھی اسی طرح یاد ہے اور انہوں نے بہترین سیاق کے ذریعے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: جب ان پر جزیہ مقرر کیا تو وہ کہنے لگے: ہم عرب لوگ ہیں، عجمیوں کی طرح ہم جزیہ نہ دیں گے، لیکن آپ ہم سے صدقہ (یعنی زکوۃ) وصول کرلیا کریں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: یہ صرف مسلمانوں پر فرض ہے، تو انہوں نے کہا: جزیہ کے علاوہ کوئی دوسرا نام رکھ لیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رضامندی کا اظہار کردیا کہ ان پر دوگنا صدقہ ہوگا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18797
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»