السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما جاء في ذبائح نصارى بني تغلب باب: بنو تغلب کے عیسائیوں کے ذبیحہ کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18799
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ السَّهْمِيُّ، أنبأ هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ ذَبَائِحِ نَصَارَى بَنِي تَغْلِبَ فَقَالَ: لَا تَأْكُلُوهُ فَإِنَّهُمْ لَمْ يَتَعَلَّقُوا مِنْ دِينِهِمْ بِشَيْءٍ إِلَّا بِشُرْبِ الْخَمْرِ.حافظ ثناء اللہ
عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بنو تغلب کے عیسائیوں کے ذبیحہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: تم ان کا ذبیحہ نہ کھاؤ، کیونکہ ان کے دین میں کوئی چیز اس کے متعلق نہیں سوائے شراب کے۔