حدیث نمبر: 18699
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صَعْصَعَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّا نَأْتِي الْقَرْيَةَ بِالسَّوَادِ فَنَسْتَفْتِحُ الْبَابَ، فَإِنْ لَمْ يُفْتَحْ لَنَا كَسَرْنَا الْبَابَ فَأَخَذْنَا الشَّاةَ فَذَبَحْنَاهَا. قَالَ: وَلِمَ تَفْعَلُونَ ذَاكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّا نَرَاهُ لَنَا حَلَالًا. قَالَ: فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ} [آل عمران: ٧٥]. وَهَذَا إِنْ كَانَ فِي الْمُعَاهَدِينَ؛ فَلِأَنَّهُمْ لَمْ يُصَالِحُوهُمْ عَلَى الضِّيَافَةِ فَلَمْ يَحِلَّ لَهُمْ تَنَاوُلُهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

زید بن صعصعہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ہم سواد کی ایک بستی میں آئے۔ ہم نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، لیکن دروازہ نہ کھولا گیا تو ہم نے دروازہ توڑ کر بکری نکال کر ذبح کر لی۔ راوی کہتے ہیں: تم نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے کہا: ہم اس کو حلال تصور کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿ذٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 75] یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا: ہم پر امیوں کا کوئی حق نہیں، وہ جان بوجھ کر اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ اگر وہ معاہدین ہوں تو پھر ضیافت پر ان کے ساتھ صلح نہ ہوگی اور ان سے کچھ لینا بھی درست نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18699
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»