السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما جاء في ضيافة من نزل به باب: جو مہمان بن کر آئے اس کی ضیافت کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صَعْصَعَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّا نَأْتِي الْقَرْيَةَ بِالسَّوَادِ فَنَسْتَفْتِحُ الْبَابَ، فَإِنْ لَمْ يُفْتَحْ لَنَا كَسَرْنَا الْبَابَ فَأَخَذْنَا الشَّاةَ فَذَبَحْنَاهَا. قَالَ: وَلِمَ تَفْعَلُونَ ذَاكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّا نَرَاهُ لَنَا حَلَالًا. قَالَ: فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ} [آل عمران: ٧٥]. وَهَذَا إِنْ كَانَ فِي الْمُعَاهَدِينَ؛ فَلِأَنَّهُمْ لَمْ يُصَالِحُوهُمْ عَلَى الضِّيَافَةِ فَلَمْ يَحِلَّ لَهُمْ تَنَاوُلُهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.صعصعہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ہم سواد کی کسی بستی میں آتے ہیں اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں، اگر دروازہ نہ کھولا جائے تو ہم دروازہ توڑ کر بکری نکال کر ذبح کر لیتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ میں نے کہا: ہم اس کو اپنے لیے حلال تصور کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿ذٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 75] یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا: ہم پر امیوں کا کوئی حق نہیں، وہ جان بوجھ کر اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں۔
اگر یہ معاہدین کے بارے میں ہو تو اس لیے کہ انہوں نے ان سے ضیافت پر صلح نہیں کی تھی، لہٰذا ان کے لیے اسے لینا حلال نہ تھا، واللہ اعلم۔