أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا لَيْثٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَلَا يَقْرُونَنَا، فَمَا تَرَى؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ ". ⦗٣٣٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ہمیں کسی قوم کے پاس بھیجتے ہیں، وہ ہماری ضیافت نہ کریں تو؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم کسی قوم کے پاس مہمان ٹھہرو، اگر وہ تمہارے لیے مناسب ضیافت کا اہتمام کریں تو قبول کرلو، اگر وہ ضیافت کا اہتمام نہ کریں تو پھر ضیافت کا مناسب حق ان سے لے سکتے ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي كَرِيمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْلَةُ الضَّيْفِ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، مَنْ أَصْبَحَ الضَّيْفُ بِفِنَائِهِ فَهُوَ عَلَيْهِ حَقٌّ - أَوْ قَالَ: دَيْنٌ - إِنْ شَاءَ اقْتَضَاهُ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو کریمہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”رات کی ضیافت کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور مہمان جس کے گھر صبح کرے اس کا فرض ہے کہ ضیافت کرے، یا فرمایا: اس پر قرض ہے، (مہمان) چاہے تو اس کا تقاضا کرے اور چاہے تو چھوڑ دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْجُودِيِّ الشَّامِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُهَاجِرِ يُحَدِّثُ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا وَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا إِلَّا كَانَ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ نَصْرُهُ حَتَّى يَأْخُذَ بِقِرَى لَيْلَتِهِ مِنْ زَرْعِهِ وَمَالِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگ مہمان کی ضیافت نہیں کرتے اور مہمان صبح محرومی کی حالت میں کرتا ہے تو ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اس کی رات کی ضیافت کا حصہ اس کی کھیتی اور مال سے لے کر دیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا غَيْلَانُ بْنُ جَامِعٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: خَرَجَ قَوْمٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنَ الْكُوفَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَأَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي أَسَدٍ وَقَدْ أَرْمَلُوا، فَسَأَلُوهُمُ الْبَيْعَ وَقَدْ رَاحَ عَلَيْهِمْ مَالٌ لَهُمْ حَسَنٌ، قَالُوا: مَا عِنْدَنَا بَيْعٌ، فَسَأَلُوهُمُ الْقِرَى، قَالُوا: مَا نُطِيقُ قِرَاكُمْ، فَلَمْ يَزَلْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْأَعْرَابِ حَتَّى اقْتَتَلُوا، فَتَرَكَتْ لَهُمُ الْأَعْرَابُ الْبُيُوتَ وَمَا فِيهَا، فَأَخَذُوا لِكُلِّ عَشَرَةٍ مِنْهُمْ شَاةً. قَالَ: فَأَتَوْا عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: لَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِي هَذَا لَفَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْأَمْصَارِ وَأَهْلِ الذِّمَّةِ بِنُزُلِ لَيْلَةٍ لِلضَّيْفِ. قَالَ قَيْسٌ: فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَمًا بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَأَعْطَى كُلَّ عَشَرَةٍ شَاةً، وَأَنَّهَا كَانَتْ سُنَّةً. قَالَ: وَقَدْ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ يَوْمَئِذٍ فَأُكْفِئَتْ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِخَيْبَرَ قَالَ قَيْسٌ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ بِنُزُلِ لَيْلَةٍ فِي الْمُسْلِمِينَ وَالْمُعَاهَدِينَ. قَالَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى: قَدْ أَذْكُرُ أَنَّ أَهْلَ الْأَرْضِ كَانُوا يَسْتَقْبِلُونَنَا بِنُزُلِ لَيْلَةٍ نَقُولُ بِالْفَارِسِيَّةِ شام. قَالَ التَّرْقُفِيُّ فِي رِوَايَتِهِ: يَقُولُونَ شام أَيْ عَشَاءٌ.
حافظ ثناء اللہ
قیس بن مسلم سے مروی ہے کہ حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصار کے کچھ لوگ کوفہ سے مدینہ کو روانہ ہوئے۔ وہ بنو اسد کے ایک قبیلے کے پاس آئے۔ وہ بے توشہ تھے، انہوں نے ان سے کچھ فروخت کرنے کا کہا اور ان کے پاس بہترین مال بھی تھا۔ انہوں نے مال فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے ضیافت کا تقاضا کیا تو انہوں نے کہا: ہم تمہاری ضیافت بھی نہیں کر سکتے۔ پھر ان کے درمیان لڑائی ہوئی تو دیہاتی اپنے گھر مال سمیت خالی کر گئے، پھر انہوں نے اپنے ہر دس آدمیوں کے لیے ایک بکری لی۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے آ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: اگر میں نے اس بارے میں پہلے سے حکم دیا ہوتا تو میں یوں یوں کرتا۔ پھر انہوں نے شہروں اور ذمی لوگوں کو خط لکھے کہ وہ مہمان کی ایک رات کی ضیافت کیا کریں۔
(ب) عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ میں بکریاں تقسیم فرمائیں، ہر دس آدمیوں کو ایک بکری دی۔ یہ سنت ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ خیبر کے موقع پر آپ ﷺ نے ہنڈیاں انڈیل دینے کا حکم فرمایا۔
(ج) ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں اور معاہدین (ذمیوں) کے درمیان ایک رات کی ضیافت مقرر فرمائی۔ ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ لوگ رات کی ضیافت کے ساتھ ہمارا استقبال کرتے، فارسی میں جس کو شام کہتے ہیں، یعنی رات کا کھانا۔
(ب) عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ میں بکریاں تقسیم فرمائیں، ہر دس آدمیوں کو ایک بکری دی۔ یہ سنت ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ خیبر کے موقع پر آپ ﷺ نے ہنڈیاں انڈیل دینے کا حکم فرمایا۔
(ج) ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں اور معاہدین (ذمیوں) کے درمیان ایک رات کی ضیافت مقرر فرمائی۔ ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ لوگ رات کی ضیافت کے ساتھ ہمارا استقبال کرتے، فارسی میں جس کو شام کہتے ہیں، یعنی رات کا کھانا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ، فَذَكَرَهُ، قَالَ: وَأَيُّمَا رُفْقَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ آوَاهُمُ اللَّيْلُ إِلَى قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْمُعَاهَدِينَ مِنْ مُسَافِرِينَ فَلَمْ يَأْتُوهُمْ بِالْقِرَى فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُمُ الذِّمَّةُ.
حافظ ثناء اللہ
حکیم بن عمیر فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لشکروں کے امراء کو خط لکھا کہ مہاجرین کے جس گروہ کو معاہدین کے کسی علاقے میں بحالتِ سفر رات ہو جائے اور وہ ان کی ضیافت نہ کریں، تو ان سے معاہدہ ختم اور ذمہ ختم ہو گیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنَّا نُصِيبُ مِنْ ثِمَارِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَأَعْلَافِهِمْ وَلَا نُشَارِكُهُمْ فِي نِسَائِهِمْ وَلَا أَمْوَالِهِمْ، وَكُنَّا نُسَخِّرُ الْعِلْجَ يَهْدِينَا إِلَى الطَّرِيقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ذمی لوگوں کے پھل، گھاس وغیرہ حاصل کر لیتے، لیکن ان کی عورتوں اور ان کے مالوں میں شراکت نہ کرتے تھے اور ہم کسی مدبر شخص کو لے لیتے جو راستے کے بارے میں ہماری رہنمائی کرتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صَعْصَعَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّا نَأْتِي الْقَرْيَةَ بِالسَّوَادِ فَنَسْتَفْتِحُ الْبَابَ، فَإِنْ لَمْ يُفْتَحْ لَنَا كَسَرْنَا الْبَابَ فَأَخَذْنَا الشَّاةَ فَذَبَحْنَاهَا. قَالَ: وَلِمَ تَفْعَلُونَ ذَاكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّا نَرَاهُ لَنَا حَلَالًا. قَالَ: فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ} [آل عمران: ٧٥]. وَهَذَا إِنْ كَانَ فِي الْمُعَاهَدِينَ؛ فَلِأَنَّهُمْ لَمْ يُصَالِحُوهُمْ عَلَى الضِّيَافَةِ فَلَمْ يَحِلَّ لَهُمْ تَنَاوُلُهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
صعصعہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ہم سواد کی کسی بستی میں آتے ہیں اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں، اگر دروازہ نہ کھولا جائے تو ہم دروازہ توڑ کر بکری نکال کر ذبح کر لیتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ میں نے کہا: ہم اس کو اپنے لیے حلال تصور کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿ذٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 75] یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا: ہم پر امیوں کا کوئی حق نہیں، وہ جان بوجھ کر اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں۔
اگر یہ معاہدین کے بارے میں ہو تو اس لیے کہ انہوں نے ان سے ضیافت پر صلح نہیں کی تھی، لہٰذا ان کے لیے اسے لینا حلال نہ تھا، واللہ اعلم۔
اگر یہ معاہدین کے بارے میں ہو تو اس لیے کہ انہوں نے ان سے ضیافت پر صلح نہیں کی تھی، لہٰذا ان کے لیے اسے لینا حلال نہ تھا، واللہ اعلم۔