السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما جاء في ضيافة من نزل به باب: جو مہمان بن کر آئے اس کی ضیافت کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18698
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنَّا نُصِيبُ مِنْ ثِمَارِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَأَعْلَافِهِمْ وَلَا نُشَارِكُهُمْ فِي نِسَائِهِمْ وَلَا أَمْوَالِهِمْ، وَكُنَّا نُسَخِّرُ الْعِلْجَ يَهْدِينَا إِلَى الطَّرِيقِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ذمی لوگوں کے پھل، گھاس وغیرہ حاصل کر لیتے، لیکن ان کی عورتوں اور ان کے مالوں میں شراکت نہ کرتے تھے اور ہم کسی مدبر شخص کو لے لیتے جو راستے کے بارے میں ہماری رہنمائی کرتا۔