السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: الضيافة في الصلح باب: صلح کی شرائط میں ضیافت (مہمان نوازی) کا بیان۔
حدیث نمبر: 18688
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمٌ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَشْتَرِطُ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ ضِيَافَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، وَأَنْ يُصْلِحُوا قَنَاطِرَ، وَإِنْ قُتِلَ بَيْنَهُمْ قَتِيلٌ فَعَلَيْهِمْ دِيَتُهُ. وَقَالَ غَيْرُهُ عَنْ هِشَامٍ: وَإِنْ قُتِلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِأَرْضِهِمْ فَعَلَيْهِمْ دِيَتُهُ.حافظ ثناء اللہ
احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ذمی لوگوں پر تین دن اور رات کی ضیافت کی شرط لگاتے اور یہ کہ وہ مال پر صلح کر لیں۔ اگر ان کے درمیان کوئی آدمی قتل ہو گیا تو وہ اس کی دیت بھی ادا کریں گے۔
ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر ان کی سرزمین پر کوئی مسلمان مارا گیا تو وہ اس کی دیت ادا کریں گے۔