السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: الضيافة في الصلح باب: صلح کی شرائط میں ضیافت (مہمان نوازی) کا بیان۔
حدیث نمبر: 18687
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَضَ عَلَى أَهْلِ السَّوَادِ ضِيَافَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَمَنْ حَبَسَهُ مَرَضٌ أَوْ مَطَرٌ أَنْفَقَ مِنْ مَالِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَحَدِيثُ أَسْلَمَ بِضِيَافَةِ ثَلَاثٍ أَشْبَهُ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ الضِّيَافَةَ ثَلَاثًا، وَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ جَعَلَهَا عَلَى قَوْمٍ ثَلَاثًا، وَعَلَى قَوْمٍ يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَى آخَرِينَ ضِيَافَةً، كَمَا يَخْتَلِفُ صُلْحُهُ لَهُمْ، فَلَا يَرُدُّ بَعْضُ الْحَدِيثِ بَعْضًا.حافظ ثناء اللہ
حارثہ بن مضرب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اہل سواد پر ایک دن و رات کی ضیافت مقرر فرمائی اور جس کو بیماری یا بارش کی وجہ سے رکنا پڑ جائے وہ اپنا مال خرچ کرے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسلم کی حدیث تین دن کی ضیافت بتاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”تین دن کی ضیافت مقرر فرمائی۔“ یہ بھی ممکن ہے کسی پر تین دن، کسی پر ایک دن و رات مقرر فرمائی ہو اور بعض پر ضیافت مقرر ہی نہ کی ہو۔ اس لیے بعض احادیث بعض کا رد نہیں کرتیں۔