حدیث نمبر: 18686
قَدْ مَضَى حَدِيثُ أَبِي الْحُوَيْرِثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْقَطِعًا، أَنَّهُ جَعَلَ عَلَى نَصَارَى أَيْلَةَ جِزْيَةً دِينَارًا عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ، وَضِيَافَةَ مَنْ مَرَّ بِهِمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ. وَالِاعْتِمَادُ فِي ذَلِكَ عَلَى مَا..
حافظ ثناء اللہ
ابو الحویرث کی نبی کریم ﷺ سے منقطع (سند والی) حدیث گزر چکی ہے کہ آپ ﷺ نے ایلہ کے عیسائیوں پر ہر شخص کے ذمے ایک دینار جزیہ مقرر فرمایا، اور یہ کہ جو مسلمان ان کے پاس سے گزرے وہ اس کی مہمان نوازی کریں۔
اور اس بارے میں اعتماد اس (روایت) پر ہے جو...
اور اس بارے میں اعتماد اس (روایت) پر ہے جو...
حدیث نمبر: 18686
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ضَرَبَ الْجِزْيَةَ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَرْبَعَةَ دَنَانِيرَ، وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا، وَمَعَ ذَلِكَ أَرْزَاقَ الْمُسْلِمِينَ وَضِيَافَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سونے والوں پر چار دینار جزیہ مقرر فرمایا اور چاندی والوں پر چالیس درہم جزیہ مقرر فرمایا اور ساتھ مسلمانوں کے رزق اور تین دن کی مہمانی بھی مقرر فرمائی۔
حدیث نمبر: 18687
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَضَ عَلَى أَهْلِ السَّوَادِ ضِيَافَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَمَنْ حَبَسَهُ مَرَضٌ أَوْ مَطَرٌ أَنْفَقَ مِنْ مَالِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَحَدِيثُ أَسْلَمَ بِضِيَافَةِ ثَلَاثٍ أَشْبَهُ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ الضِّيَافَةَ ثَلَاثًا، وَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ جَعَلَهَا عَلَى قَوْمٍ ثَلَاثًا، وَعَلَى قَوْمٍ يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَى آخَرِينَ ضِيَافَةً، كَمَا يَخْتَلِفُ صُلْحُهُ لَهُمْ، فَلَا يَرُدُّ بَعْضُ الْحَدِيثِ بَعْضًا.
حافظ ثناء اللہ
حارثہ بن مضرب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اہل سواد پر ایک دن و رات کی ضیافت مقرر فرمائی اور جس کو بیماری یا بارش کی وجہ سے رکنا پڑ جائے وہ اپنا مال خرچ کرے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسلم کی حدیث تین دن کی ضیافت بتاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”تین دن کی ضیافت مقرر فرمائی۔“ یہ بھی ممکن ہے کسی پر تین دن، کسی پر ایک دن و رات مقرر فرمائی ہو اور بعض پر ضیافت مقرر ہی نہ کی ہو۔ اس لیے بعض احادیث بعض کا رد نہیں کرتیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسلم کی حدیث تین دن کی ضیافت بتاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”تین دن کی ضیافت مقرر فرمائی۔“ یہ بھی ممکن ہے کسی پر تین دن، کسی پر ایک دن و رات مقرر فرمائی ہو اور بعض پر ضیافت مقرر ہی نہ کی ہو۔ اس لیے بعض احادیث بعض کا رد نہیں کرتیں۔
حدیث نمبر: 18688
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمٌ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَشْتَرِطُ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ ضِيَافَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، وَأَنْ يُصْلِحُوا قَنَاطِرَ، وَإِنْ قُتِلَ بَيْنَهُمْ قَتِيلٌ فَعَلَيْهِمْ دِيَتُهُ. وَقَالَ غَيْرُهُ عَنْ هِشَامٍ: وَإِنْ قُتِلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِأَرْضِهِمْ فَعَلَيْهِمْ دِيَتُهُ.
حافظ ثناء اللہ
احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ذمی لوگوں پر تین دن اور رات کی ضیافت کی شرط لگاتے اور یہ کہ وہ مال پر صلح کر لیں۔ اگر ان کے درمیان کوئی آدمی قتل ہو گیا تو وہ اس کی دیت بھی ادا کریں گے۔
ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر ان کی سرزمین پر کوئی مسلمان مارا گیا تو وہ اس کی دیت ادا کریں گے۔
ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر ان کی سرزمین پر کوئی مسلمان مارا گیا تو وہ اس کی دیت ادا کریں گے۔