السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما جاء في الضيافة ثلاثة باب: تین دن کی ضیافت کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18689
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ: حُدِّثْنَا ⦗٣٣١⦘ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ، وَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمَنَّ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا جَائِزَتُهُ؟ قَالَ: " يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلَا يَثْوِي عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے اور جس کا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان ہو وہ اپنے مہمان کی ضیافت کے ذریعے تعظیم کرے۔“ دریافت کیا گیا: اس کی ضیافت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دن و رات اور ضیافت تین دن تک ہے، اس سے زیادہ صدقہ ہے، اور مہمان کے لیے یہ (جائز) نہیں کہ وہ (اتنا زیادہ) ٹھہرے کہ اسے (میزبان کو) تکلیف ہو اور جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھے کلمات کہے یا خاموش ہو جائے۔“