السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: من قال تؤخذ منهم الجزية عربا كانوا أو عجما باب: اس شخص کے قول کا بیان کہ ان سے جزیہ لیا جائے گا خواہ وہ عرب ہوں یا عجم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي قِصَّةِ وُرُودِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ مِنْ جِهَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْحِيرَةَ وَمُحَاوَرَةِ هَانِئِ بْنِ قَبِيصَةَ إِيَّاهُ فَقَالَ خَالِدٌ: أَدْعُوكُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَإِلَى أَنْ تَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَتُقِرُّوا بِأَحْكَامِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى أَنَّ لَكُمْ مِثْلَ مَا لَهُمْ وَعَلَيْكُمْ مِثْلَ مَا عَلَيْهِمْ. فَقَالَ هَانِئٌ: وَإِنْ لَمْ أَشَأْ ذَلِكَ فَمَهْ؟ قَالَ: فَإِنْ أَبَيْتُمْ ذَلِكَ أَدَّيْتُمُ الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ. قَالَ: فَإِنْ أَبَيْنَا ذَلِكَ؟ قَالَ: فَإِنْ أَبَيْتُمْ ذَلِكَ وَطِئْتُكُمْ بِقَوْمٍ الْمَوْتُ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنَ الْحَيَاةِ إِلَيْكُمْ. فَقَالَ هَانِئٌ: أَجِّلْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ فَنَنْظُرَ فِي أَمْرِنَا. قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ. فَلَمَّا أَصْبَحَ الْقَوْمُ غَدَا هَانِئٌ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ أَجْمَعَ أَمْرُنَا عَلَى أَنْ نُؤَدِّيَ الْجِزْيَةَ فَهَلُمَّ فَلْأُصَالِحْكَ. فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ: فَكَيْفَ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَبٌ تَكُونُ الْجِزْيَةُ وَالذُّلُّ أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ الْقِتَالِ وَالْعِزِّ؟ فَقَالَ: نَظَرْنَا فِيمَا يُقْتَلُ مِنَّا فَإِذَا هُمْ لَا يَرْجِعُونَ، وَنَظَرْنَا إِلَى مَا يُؤْخَذُ مِنَّا مِنَ الْمَالِ فَقَلَّمَا نَلْبَثُ حَتَّى يُخْلِفَهُ اللهُ لَنَا. قَالَ: فَصَالَحَهُمْ خَالِدٌ عَلَى تِسْعِينَ أَلْفًا.ابن اسحاق، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جانب سے حیرہ شہر میں ورود کے قصے کے بارے میں بیان کرتے ہیں اور ہانی بن قبیصہ کا محاورہ بیان کرتے ہیں کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں اور اس بات کی کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ بندے اور رسول ہیں اور تم قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور تم پر مسلمانوں والے احکام جاری ہوں گے اور تم پر وہ ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو ان پر ہیں۔ ہانی نے کہا: اگر ہم اس کو بھی نہ مانیں؟ فرمایا: اگر تم اس بات کو بھی نہیں مانتے تو تم جزیہ ادا کرو۔ اس نے کہا: اگر میں یہ نہ چاہوں؟ فرمایا: اگر تم اس بات کو نہیں مانتے تو پھر تمہارا واسطہ ایسی قوم سے پڑے گا جنہیں موت زندگی سے زیادہ محبوب ہے جیسے تمہیں زندگی محبوب ہے۔ ہانی نے کہا: آپ ہمیں ایک رات مہلت دیں، ہم اپنے معاملے میں سوچ بچار کر لیں۔ کہنے لگے: میں آپ کو مہلت دیتا ہوں۔ جب لوگوں نے صبح کی تو ہانی نے آ کر کہا کہ ہم اس پر متفق ہوئے ہیں کہ ہم جزیہ ادا کیا کریں گے۔ آؤ میں آپ سے صلح کرنا چاہتا ہوں۔ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: تم عرب لوگ ہو، جزیہ اور ذلت کو لڑائی اور عزت پر ترجیح دے رہے ہو۔ اس نے کہا: ہم نے غور و فکر کیا، جو ہمارے قتل کیے جائیں گے وہ کبھی واپس نہ لوٹیں گے اور جو ہم سے مال لیا جائے گا تھوڑی مدت کے بعد اللہ رب العزت اور دے دیں گے، تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے نوے ہزار پر صلح کی۔