السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: من قال تؤخذ منهم الجزية عربا كانوا أو عجما باب: اس شخص کے قول کا بیان کہ ان سے جزیہ لیا جائے گا خواہ وہ عرب ہوں یا عجم۔
حدیث نمبر: 18646
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَوْمَ الْمَرْجِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَمْنَعُ الدِّينَ بِنَصَارَى مِنْ رَبِيعَةَ عَلَى شَاطِئِ الْفُرَاتِ " مَا تَرَكْتُ عَرَبِيًّا إِلَّا قَتَلْتُهُ أَوْ يُسْلِمَ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن عمرو بن سعید نے اپنے والد سے مرج کے دن سنا کہ وہ کہہ رہے تھے: میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ ”اللہ رب العزت فرات کے کنارے پر ربیعہ کے عیسائیوں کے ذریعے دین کی حفاظت فرمائیں گے“ تو میں کسی عربی کو قتل کرنے سے نہ چھوڑتا یا وہ اسلام قبول کر لیتا۔