السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: من زعم أنما تؤخذ الجزية من العجم باب: اس شخص کے دعوے کا بیان کہ جزیہ صرف عجمیوں سے لیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ النَّهْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: عَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَالِبٍ وَعِنْدَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ، وَعِنْدَ رَأْسِهِ مَقْعَدُ رَجُلٍ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو جَهْلٍ قَامَ فَجَلَسَ فَقَالَ: ابْنُ أَخِيكَ يَذْكُرُ آلِهَتَنَا، فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ: مَا شَأْنُ قَوْمِكَ يَشْكُونَكَ؟ قَالَ: " يَا عَمِّ أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ يَدِينُ لَهُمُ الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمُ الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ ". قَالَ: مَا هِيَ؟ قَالَ: " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ". فَقَامُوا وَقَالُوا: أَجَعَلَ ⦗٣١٧⦘ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا؟ قَالَ: وَنَزَلَ: {ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ} [ص: ١] حَتَّى إِذَا بَلَغَ: {إِنَّ هَذَا لِشَيْءٌ عُجَابٌ} [ص: ٥] لَفْظُ حَدِيثِ الْمُقْرِئُ.سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو طالب کی تیمارداری فرمائی۔ اس وقت ان کے پاس قریشی لوگ تھے۔ جب آپ ﷺ کھڑے ہوئے تو ابو جہل آپ ﷺ کی جگہ بیٹھ کر کہنے لگا: آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں کا تذکرہ کرتا تھا، تو ابو طالب نے کہا: آپ کی قوم شکایت کر رہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے چچا! میرا ارادہ ہے کہ اس بات کو اہل عرب قبول کر لیں تو عجم والے ان کو جزیہ دیں گے۔“ پوچھا: کون سی بات؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس بات کی گواہی دے دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔“ تو انہوں نے کہا: کیا آپ نے صرف ایک ہی معبود بنا دیا؟ پھر سورہ ص کی آیات نازل ہوئیں: ﴿صٓ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ﴾ [سورة ص: 1] سے ﴿إِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ [سورة ص: 5] تک۔