❮
❯
حدیث نمبر: 18645
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِزْيَةَ مِنْ أُكَيْدِرَ الْغَسَّانِيِّ وَيَرْوُونَ أَنَّهُ صَالَحَ رِجَالًا مِنَ الْعَرَبِ عَلَى الْجِزْيَةِ، فَأَمَّا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمَنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ إِلَى الْيَوْمِ فَقَدْ أَخَذُوا الْجِزْيَةَ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ وَتَنُّوخَ وَبَهْرَاءَ وَخُلْطٍ مِنْ خُلْطِ الْعَرَبِ، وَهُمْ إِلَى السَّاعَةِ مُقِيمُونَ عَلَى النَّصْرَانِيَّةِ، يُضَاعَفُ عَلَيْهِمُ الصَّدَقَةُ وَذَلِكَ جِزْيَةٌ، وَإِنَّمَا الْجِزْيَةُ عَلَى الْأَدْيَانِ لَا عَلَى الْأَنْسَابِ، وَلَوْلَا أَنْ نَأْثَمَ بِتَمَنِّي بَاطِلٍ وَدِدْنَا أَنَّ الَّذِي قَالَ أَبُو يُوسُفَ كَمَا قَالَ، وَأَنْ لَا يُجْرَى صَغَارٌ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَكِنَّ اللهَ أَجَلُّ فِي أَعْيُنِنَا مِنْ أَنْ نُحِبَّ غَيْرَ مَا قَضَى بِهِ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اکیدر غسانی سے جزیہ وصول کیا اور لوگ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے عرب کے کچھ لوگوں سے جزیہ پر صلح کی۔ رہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد آج تک جتنے خلفاء ہوئے ہیں تو ان سب نے بنو تغلب، تنوخ، بہراء اور عرب کے ملے جلے قبائل سے جزیہ وصول کیا، اور وہ اس وقت تک عیسائیت پر قائم ہیں، ان پر صدقہ دو گنا کیا جاتا ہے اور یہی جزیہ ہے، اور جزیہ ادیان پر ہوتا ہے نہ کہ نسلوں پر۔ اگر باطل کی تمنا کرنے کی وجہ سے ہمارے گناہ گار ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم یہ چاہتے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی بات ویسے ہی ہوتی جیسے انہوں نے کہی، اور کسی عربی پر ذلت مسلط نہ کی جاتی، لیکن اللہ ہماری نگاہوں میں اس سے کہیں زیادہ بلند ہے کہ ہم اس کے فیصلے کے علاوہ کسی اور چیز کو پسند کریں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18645
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»