السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: في فضل الجهاد في سبيل الله باب: اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18487
وَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنْ أُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أَحْيَا فَأُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا ". كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ ثَلَاثًا: أُشْهِدُ اللهَ الْحَدِيثُ الْأَوَّلُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَقَدْ أَخْرَجَا بَاقِيَهُ مِنْ أَوْجُهٍ.حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! میری خواہش ہے کہ میں اللہ کے راستے میں لڑوں اور قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں اور قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں اور قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں اور قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تین مرتبہ کہا کرتے تھے: میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں۔