أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أِيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللهِ وَرَسُولِهِ ". قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: " ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ ". قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: " ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کون سے اعمال افضل ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔“ پوچھا گیا: اس کے بعد؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“ کہا گیا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”مقبول حج۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْتَدَبَ اللهُ لِمَنْ خَرَجَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا إِيمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرَسُولِي فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرْجِعَهُ إِلَى بَيْتِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وہ شخص جو اس کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے، اسے صرف مجھ پر ایمان اور میرے رسول کی تصدیق ہی نکالتی ہے، تو میرے ذمہ ہے کہ میں اس کو جنت میں داخل کروں یا اس کو اس کے گھر واپس کروں جہاں سے وہ نکلا تھا، اس حالت میں کہ جو اس نے ثواب اور غنیمت حاصل کی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ، أنبأ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَكَفَّلَ اللهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا جِهَادٌ فِي ⦗٢٦٥⦘ سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يُرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رب العزت نے ضمانت دی ہے کہ جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، اسے گھر سے صرف اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اور اس کے کلمے کی تصدیق کرنا ہی نکالتا ہے، اللہ اس کو جنت میں داخل کرے یا پھر اس کو ثواب یا مال غنیمت کے ساتھ اس کے گھر واپس لوٹائے۔“
وَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِنْ قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللهِ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَقْعُدُوا بَعْدِي ".
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے! اگر میں لوگوں پر مشقت کا خیال نہ کرتا تو میں کسی ایسے سریہ سے پیچھے نہ رہتا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، لیکن میں ان کے لیے سواریوں کا انتظام نہیں کر پاتا اور نہ ہی وہ اتنی وسعت پاتے ہیں کہ وہ میرے پیچھے آسکیں اور نہ ہی ان کو میرے پیچھے رہنا اچھا لگتا ہے۔“
وَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنْ أُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أَحْيَا فَأُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا ". كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ ثَلَاثًا: أُشْهِدُ اللهَ الْحَدِيثُ الْأَوَّلُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَقَدْ أَخْرَجَا بَاقِيَهُ مِنْ أَوْجُهٍ.
حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! میری خواہش ہے کہ میں اللہ کے راستے میں لڑوں اور قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں اور قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں اور قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں اور قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تین مرتبہ کہا کرتے تھے: میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، أَنَّ أَبَا حُصَيْنٍ حَدَّثَهُ أَنَّ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلِّمْنِي عَمَلًا يَعْدِلُ الْجِهَادَ. قَالَ: " لَا أَجِدُهُ ". ثُمَّ قَالَ: فَقَالَ: " هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ أَنْ تَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَتَقُومَ وَلَا تَفْتُرَ وَتَصُومَ وَلَا تُفْطِرَ؟ " قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاهِدِينَ يَسْتَنُّ فِي طُولِهِ فَيُكْتَبُ لَهُ حَسَنَاتٍ. لَفْظُ حَدِيثِ جَعْفَرٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ عَفَّانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے کوئی ایسا عمل سکھا دیجیے جو جہاد کے برابر ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ایسا عمل نہیں پاتا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس کی طاقت رکھتے ہو کہ جب مجاہد (جہاد کے لیے) نکلے تو تم مسجد میں داخل ہو جاؤ اور (نماز میں) کھڑے رہو اور سستی نہ کرو، اور روزے رکھو اور افطار نہ کرو؟“ اس نے کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجاہد کا گھوڑا اپنی رسی میں اچھلتا کودتا ہے تو اس کے لیے (بھی) نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُفْيَانَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنَا مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللهِ. قَالَ: " إِنَّكُمْ لَا تَسْتَطِيعُونَ ". قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: " إِنَّكُمْ لَا تَسْتَطِيعُونَهُ ". قَالَ: فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَمْ فِي الرَّابِعَةِ: " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللهِ لَا يَفْتُرُ مِنْ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ إِلَى أَهْلِهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کون سی چیز اللہ کے راستے میں جہاد کے برابر ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔“ ہم نے عرض کیا: ”کیوں نہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔“ راوی کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا شخص اس کی طرح ہے جو مسلسل روزے رکھتا ہے اور ہمہ وقت حالتِ قیام میں قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے، وہ روزے اور نماز میں سستی نہیں کرتا، حتیٰ کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا مجاہد گھر میں لوٹ آئے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو تَوْبَةَ، ثنا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدٍ هُوَ ابْنُ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ: لَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ. وَقَالَ الْآخَرُ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ. فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ: لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، وَلَكِنِّي إِذَا صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فِيمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ. فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ لَا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللهِ} [التوبة: ١٩] الْآيَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيِّ عَنْ أَبِي تَوْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں منبرِ رسول ﷺ کے پاس تھا کہ ایک شخص نے کہا: مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں اسلام کے بعد کوئی عمل نہ کروں سوائے مسجدِ حرام کو آباد کرنے کے۔ دوسرے نے کہہ دیا: جو تو نے کہا، اللہ کے راستے میں جہاد اس سے افضل ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا اور فرمایا: منبرِ رسول ﷺ کے پاس آوازیں بلند نہ کرو۔ جمعہ کا دن تھا۔ میں نمازِ جمعہ کے بعد تمہارا اختلافی مسئلہ پوچھ لوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی: ﴿أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللَّهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ [سورة التوبة: 19] کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجدِ حرام کی تعمیر کرنا اس شخص کے مانند بنا دیا جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے؟ وہ اللہ کے ہاں برابر نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، الْغَدْوَةُ يَغْدُوهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللهِ وَالرَّوْحَةُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں ایک کوڑے کے برابر جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے، اور صبح یا شام کے وقت اللہ کے راستہ میں بندے کا جانا دنیا اور جو کچھ اس میں موجود ہے، اس سے بہتر ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأُمَوِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ الشَّرْعَبِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِيَّةٍ تَخْرُجُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَخْرُجُ اللَّيْلَةَ أَمْ نَمْكُثُ حَتَّى نُصْبِحَ؟ فَقَالَ: " أَوَلَا تُحِبُّونَ أَنْ تَبِيتُوا فِي خَرِيفٍ مِنْ خَرَائِفِ الْجَنَّةِ " وَالْخَرِيفُ: الْحَدِيقَةُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ کو جانے کا حکم دیا۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! رات کو چلے جائیں یا صبح کا انتظار کر لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم پسند نہیں کرتے کہ تم رات جنت کے باغوں میں گزارو؟“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ رَضِيَ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ". قَالَ: فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ ⦗٢٦٧⦘ فَقَالَ: أَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ. فَفَعَلَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأُخْرَى يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ". قَالَ: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ، الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ، الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو سعید! جو اللہ کے رب، اسلام کے دین اور محمد (ﷺ) کے نبی ہونے پر راضی ہوا، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“ راوی کہتے ہیں کہ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے تعجب کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! دوبارہ بیان فرمائیں، تو آپ ﷺ نے پھر وہی ارشاد فرمایا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور ایک اور چیز ہے جس کے ذریعے بندے کے جنت میں سو درجے بلند کر دیے جاتے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیانی مسافت زمین و آسمان کے برابر ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَوِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَآتَى الزَّكَاةَ، وَصَامَ رَمَضَانَ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ - يَعْنِي الْجَنَّةَ - هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ مَاتَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلَا تُنْبِئُ النَّاسَ بِذَلِكَ؟. قَالَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَعَدَّهَا اللهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ وَسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ، وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى "..
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور رسول پر ایمان رکھے، نماز ادا کرے، زکوۃ دے، رمضان کے روزے رکھے تو اللہ پر حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کردے۔ اس نے اللہ کے راستہ میں ہجرت کی یا اپنی جائے پیدائش پر ہی فوت ہوگیا۔“ انھوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں اور ہر درجہ کے درمیان زمین و آسمان کی مسافت کے برابر فاصلہ ہے۔ یہ اللہ نے مجاہدین کے لیے تیار کیے ہیں۔ جب بھی تم اللہ سے مانگو تو جنت الفردوس طلب کیا کرو۔ یہ جنت کا درمیانی اور سب سے اعلیٰ حصہ ہے۔ اس سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے۔“
قَالَ: وَثَنَا أَبُو الْأَزْهَرِ ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: فَحَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ فُلَيْحٌ الثَّانِيَةَ، فَذَكَرَهُ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِنَحْوِهِ وَلَمْ يَشُكَّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ عَنْ فُلَيْحٍ، وَلَمْ يَشُكَّ.
حافظ ثناء اللہ
یونس بن محمد کہتے ہیں کہ فلیح نے یہ حدیث ہمیں دوسری مرتبہ بیان کی تو اسے ہلال بن علی سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح ذکر کیا اور (راوی کے بارے میں) شک نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلُ بْنُ زِيَادٍ الْطَّحَّانُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أِيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُؤْمِنٌ مُجَاهِدٌ فِي سَبِيلِ اللهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ". فَقَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ. وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون لوگ افضل ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مومن جو اللہ کے راستے میں اپنی جان و مال سے جہاد کرتا ہے۔“ پوچھا: پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مومن جو کسی گھاٹی میں اللہ رب العزت سے ڈرتا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَطَّارُ الْحِيرِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَعْجَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مِنْ خَيْرِ ⦗٢٦٨⦘ مَعَاشِ النَّاسِ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ يَطِيرُ عَلَى مَتْنِهِ، كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً أَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ يَبْتَغِي الْقَتْلَ وَالْمَوْتَ مَظَانَّهُ، أَوْ رَجُلٌ فِي غَنِيمَةٍ فِي رَأْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هَذِهِ الشَّعَفِ أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ، لَيْسَ مِنَ النَّاسِ إِلَّا فِي خَيْرٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ وَيَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كِلَيْهِمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَدْرٍ، وَقَالَ: فِي شُعْبَةٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں سے اس شخص کی زندگی نہایت بہتر ہے، جس نے اللہ کے راستے میں اپنی سواری کی لگام کو تھاما۔ جب وہ کسی طرف سے خطرے یا فریاد رسی کی اطلاع پاتا ہے تو برق رفتاری سے اس کی طرف جاتا ہے۔ وہ موت کے مواقع تلاش کرتا ہے یا وہ شخص جو چند بکریوں کے ساتھ اپنی پہاڑی پر مقیم ہے یا کسی وادی میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔ وہ مرتے دم تک نماز اور زکاۃ ادا کرتا ہے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں لگا رہتا ہے۔ ایسا شخص لوگوں سے خیر و بھلائی میں ہے۔“ (ب) بعجہ بن عبداللہ بن بدر فرماتے ہیں: پہاڑیوں میں سے کسی پہاڑی پر۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَهُوَ أَبُو مُسْلِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ، وَإِنْ مُنِعَ سَخِطَ، تَعِسَ وَانْتَكَسَ، وَإِذَا شِيكَ فَلَا انْتَقَشَ، طُوبَى لِعَبْدٍ آخِذٍ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَشْعَثَ رَأْسُهُ، مُغَبَّرَّةٍ قَدَمَاهُ، إِنْ كَانَ فِي السَّاقَةِ كَانَ فِي السَّاقَةِ، وَإِنْ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ، إِنِ اسْتَأْذَنَ لَمْ يُؤَذَنْ لَهُ، وَإِنْ شَفَعَ لَمْ يُشَفَّعْ، طُوبَى لَهُ ثُمَّ طُوبَى لَهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”درہم و دینار اور چادر کا بندہ ہلاک ہوگیا۔ اگر اسے دیا جائے تو راضی رہتا ہے، اگر نہ ملے تو ناراض ہوجاتا ہے۔ ایسا شخص بدنصیب اور ذلیل ہو، اسے کانٹا چبھ جائے تو نکالا نہ جائے؛ اور اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے جس نے اللہ کی راہ میں گھوڑے کی لگام تھام رکھی ہے۔ اس کا سر پراگندہ اور پاؤں خاک آلود ہیں۔ اگر اسے لشکر کے پچھلے حصے میں متعین کیا جائے تو وہاں ڈیوٹی دیتا ہے۔ اگر اسے حفاظتی دستے میں کھڑا کیا جائے تو کھڑا ہوجاتا ہے۔ اگر اجازت چاہے تو اجازت نہیں دی جاتی اور کسی کی سفارش کرے تو سفارش نہیں مانی جاتی، اس کو خوشخبری ہو، خوشخبری ہو!“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: لَوْ أَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا يَسْأَلُهُ عَنْ أَحَبِّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ. قَالَ: فَلَمْ يَذْهَبْ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنَّا وَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُولَئِكَ النَّفْرَ رَجُلًا رَجُلًا حَتَّى جَمَعَهُمْ، وَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ السُّورَةُ: سَبَّحَ لِلَّهِ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: قَرَأَهَا عَلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ كُلَّهَا، قَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ: وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا أَبُو سَلَمَةَ كُلَّهَا. ⦗٢٦٩⦘ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا يَحْيَى كُلَّهَا، قَالَ الْعَبَّاسُ: قَالَ أَبِي: وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا الْأَوْزَاعِيُّ كُلَّهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کہنے لگے: کسی کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجو کہ وہ پوچھے کہ اللہ کو کون سے اعمال پسندیدہ ہیں؟ راوی کہتے ہیں: کوئی بھی آپ ﷺ کے پاس نہ گیا، ہم نے آپ ﷺ سے پوچھنا مؤخر کر دیا۔ آپ ﷺ نے اس گروہ کے ایک ایک فرد کو بلایا حتی کہ وہ سب جمع ہو گئے تو ان کے بارے میں یہ سورت نازل ہوئی: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [سورة الصف: 1]
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکمل سورت ہمارے سامنے پڑھی۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے مکمل سورت پڑھی۔ یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوسلمہ رحمہ اللہ نے وہ سورت پوری ہمارے سامنے پڑھی اور اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یحییٰ رحمہ اللہ نے وہ سورت مکمل پڑھی۔ عباس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا کہ اوزاعی رحمہ اللہ نے بھی مکمل سورت تلاوت کی۔
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکمل سورت ہمارے سامنے پڑھی۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے مکمل سورت پڑھی۔ یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوسلمہ رحمہ اللہ نے وہ سورت پوری ہمارے سامنے پڑھی اور اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یحییٰ رحمہ اللہ نے وہ سورت مکمل پڑھی۔ عباس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا کہ اوزاعی رحمہ اللہ نے بھی مکمل سورت تلاوت کی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: اجْتَمَعْنَا فَتَذَاكَرْنَا فَقُلْنَا: أَيُّكُمْ يَأْتِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلُهُ: أِيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ قَالَ: ثُمَّ تَفَرَّقْنَا وَهِبْنَا أَنْ يَأْتِيَهُ مِنَّا أَحَدٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَنَا فَجَعَلَ يُومِئُ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ، فَقَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} إِلَى آخِرِ السُّورَةِ. قَالَ يَحْيَى: فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا أَبُو سَلَمَةَ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا يَحْيَى مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا الْأَوْزَاعِيُّ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، قَالَ مُعَاوِيَةُ: وَقَرَأَهَا أَبُو إِسْحَاقَ عَلَيْنَا مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصَّغَانِيُّ: وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ: لَمْ يَقْرَأْ عَلَيْنَا الصَّغَانِيُّ السُّورَةَ بِتَمَامِهَا، وَقَرَأَ أَبُو الْعَبَّاسِ مِنْ أَوَّلِهَا شَيْئًا، وَقَرَأَ الْقَاضِي مِنْ أَوَّلِهَا شَيْئًا، وَقَرَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ عَلَيْنَا السُّورَةَ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، وَقَرَأَهَا الشَّيْخُ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا.
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم جمع ہو کر آپس میں بات چیت کر رہے تھے کہ ”کون رسول اللہ ﷺ سے پوچھے گا کہ اللہ کو کون سے اعمال زیادہ پسندیدہ ہیں؟“ پھر ہم منتشر ہو گئے، اور ہم اس سے ہیبت زدہ رہے کہ ہم میں سے کوئی آپ ﷺ کے پاس جائے، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بلوا کر سب کو جمع فرمایا۔ ہم ایک دوسرے کی جانب اشارہ کر رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ آیت تلاوت کر کے سنائی: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [سورة الصف: 1] ”آسمانوں میں اور زمین میں موجود تمام اشیاء اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہیں، وہ غالب حکمت والا ہے۔“ یحییٰ کہتے ہیں کہ ابو سلمہ نے ابتدا سے لے کر آخر تک تلاوت کی اور ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے شروع سے آخر تک پڑھی اور اوزاعی کہتے ہیں کہ یحییٰ نے ابتدا سے انتہا تک تلاوت کی اور ابو اسحاق کہتے ہیں کہ اوزاعی نے ابتدا سے اخیر تک تلاوت کی اور معاویہ کہتے ہیں کہ ابو اسحاق نے شروع سے آخر تک پڑھی۔ ابوبکر صغانی کہتے ہیں کہ معاویہ نے ہمارے سامنے مکمل سورہ تلاوت کی۔ ابو العباس کہتے ہیں کہ صغانی نے مکمل سورہ تلاوت نہ کی۔ ابو العباس اور قاضی نے ابتدائی حصہ تلاوت کیا اور ابو عبداللہ حافظ نے مکمل سورہ تلاوت کی اور شیخ نے بھی مکمل سورہ پڑھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ: كَانَ الْحَدِيثُ يَبْلُغُنِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَهُ فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّهُ كَانَ يَبْلُغُنِي عَنْكَ الْحَدِيثُ فَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَكَ، فَقَالَ: لِلَّهِ أَبُوكَ فَقَدْ لَقِيتَ فَهَاتِ. فَقُلْتُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَكُمْ أَنَّ اللهَ تَعَالَى يُحِبُّ ثَلَاثَةً وَيُبْغِضُ ثَلَاثَةً، قَالَ: مَا إِخَالُنِي أَنْ أَكْذِبَ عَلَى خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قُلْتُ: فَمَنِ ⦗٢٧٠⦘ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّ اللهُ؟ قَالَ: رَجُلٌ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ وَإِنَّكُمْ لَتَجِدُونَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ عِنْدَكُمْ: {إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا} [الصف: ٤]. قُلْتُ: وَمَنْ؟ قَالَ: رَجُلٌ لَهُ جَارُ سُوءٍ فَهُوَ يُؤْذِيهِ فَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُ فَيَكْفِيهِ اللهُ إِيَّاهُ بِحَيَاةٍ أَوْ مَوْتٍ. قَالَ: وَمَنْ؟ قَالَ: رَجُلٌ كَانَ مَعَ قَوْمٍ فِي سَفَرٍ فَنَزَلُوا فَعَرَّسُوا وَقَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الْكَرَى وَالنُّعَاسُ، وَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ فَنَامُوا وَقَامَ فَتَوَضَّأَ فَصَلَّى رَهْبَةً لِلَّهِ وَرَغْبَةً إِلَيْهِ. قُلْتُ: فَمَنِ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُ؟ قَالَ: الْبَخِيلُ الْمَنَّانُ، وَالْمُخْتَالُ الْفَخُورُ، وَإِنَّكُمْ لَتَجِدُونَ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللهِ: {إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ} [لقمان: ١٨]. قَالَ: فَمَنِ الثَّالِثُ؟ قَالَ: التَّاجِرُ الْحَلَّافُ، أَوِ الْبَائِعُ الْحَلَّافُ.
حافظ ثناء اللہ
مطرف بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مجھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملی اور میں ان سے ملاقات کا شوق رکھتا تھا۔ جب میری ملاقات ہوئی تو میں نے کہا: اے ابوذر رضی اللہ عنہ! آپ سے یہ حدیث ملی تھی اور ملاقات کا شوق بھی تھا، تو انہوں نے کہا: تیرے باپ کا بھلا ہو۔ اب ملے ہو تو بتاؤ۔ میں نے کہا: آپ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تین چیزوں کو پسند فرماتا ہے اور تین سے بغض رکھتا ہے۔“ کہتے ہیں (ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا): میرا خیال نہیں کہ میں اپنے دوست پر جھوٹ بولوں۔ میں نے کہا: وہ کون سی تین اشیاء ہیں جن کو اللہ پسند فرماتا ہے؟ فرمایا: ”پہلا کسی شخص کا دشمن سے قتال کرنا جیسے اللہ کی کتاب میں موجود ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ﴾ [سورة الصف: 4] کہ اللہ ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے جو اس کے راستہ میں صف باندھ کر جہاد کرتے ہیں۔“
میں نے پوچھا: دوسرا کون شخص ہے؟ فرمایا: ”وہ شخص جس کا برا ہمسایہ اسے تکلیف دیتا ہے اور وہ اس کی تکالیف پر صبر کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ (اس کی) زندگی یا موت کے ذریعے اسے اس سے کافی ہو جاتا ہے۔“ تیسرا بندہ کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ شخص جو لوگوں کے ساتھ سفر میں شامل ہوتا ہے، لوگ پڑاؤ کرتے وقت سو جاتے ہیں لیکن یہ اللہ کے ڈر اور رغبت سے وضو کر کے نماز کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔“ وہ تین آدمی کون سے ہیں جن سے اللہ بغض رکھتا ہے؟ فرمایا: ”پہلا بخیل احسان جتانے والا، دوسرا فخر کرنے والا متکبر،“ اور یہ بھی اللہ کی کتاب میں موجود ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ [سورة لقمان: 18] کہ اللہ متکبر فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔ اس نے کہا: تیسرا شخص کون ہے؟ فرمایا: ”قسمیں اٹھانے والا تاجر یا قسمیں اٹھا کر سامان فروخت کرنے والا۔“
میں نے پوچھا: دوسرا کون شخص ہے؟ فرمایا: ”وہ شخص جس کا برا ہمسایہ اسے تکلیف دیتا ہے اور وہ اس کی تکالیف پر صبر کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ (اس کی) زندگی یا موت کے ذریعے اسے اس سے کافی ہو جاتا ہے۔“ تیسرا بندہ کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ شخص جو لوگوں کے ساتھ سفر میں شامل ہوتا ہے، لوگ پڑاؤ کرتے وقت سو جاتے ہیں لیکن یہ اللہ کے ڈر اور رغبت سے وضو کر کے نماز کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔“ وہ تین آدمی کون سے ہیں جن سے اللہ بغض رکھتا ہے؟ فرمایا: ”پہلا بخیل احسان جتانے والا، دوسرا فخر کرنے والا متکبر،“ اور یہ بھی اللہ کی کتاب میں موجود ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ [سورة لقمان: 18] کہ اللہ متکبر فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔ اس نے کہا: تیسرا شخص کون ہے؟ فرمایا: ”قسمیں اٹھانے والا تاجر یا قسمیں اٹھا کر سامان فروخت کرنے والا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقَامَ بِتَبُوكَ خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُضِيفٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ؟ إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ، أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، أَوْ عَلَى قَدَمِهِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ، وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا يَقْرَأُ كِتَابَ اللهِ فَلَا يَرْعَوِي إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک میں لوگوں کو کھجور کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں بہترین اور بدترین لوگ نہ بتاؤں؟ بہتر انسان وہ ہے جو گھوڑے یا اونٹ یا پیادہ موت تک اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور بدترین شخص فاجر جری ہے جو کتاب اللہ کی تلاوت کرتا ہے لیکن کوئی چیز اس سے حاصل نہیں کرتا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأُمَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشِعْبٍ فِيهِ عُيَيْنَةٌ مِنْ مَاءٍ عَذْبٍ فَأَعْجَبَهُ طِيبُهُ وَحُسْنُهُ فَقَالَ: لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ وَأَقَمْتُ فِي هَذَا الشِّعْبِ. ثُمَّ قَالَ: لَا أَفْعَلُ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا تَفْعَلْ؛ فَإِنَّ مُقَامَ أَحَدِكُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ فِي أَهْلِهِ سِتِّينَ عَامًا، أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَيُدْخِلَكُمُ الْجَنَّةَ؟ اغْزُوا فِي سَبِيلِ اللهِ، مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فُوَاقَ نَاقَتِهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ میں سے ایک شخص ایک ایسی گھاٹی کے پاس سے گزرا جس میں میٹھے پانی کا چشمہ تھا، تو اسے اس کی خوشبو اور خوبصورتی اچھی لگی، اس نے کہا: اگر میں لوگوں سے الگ ہو کر یہاں بیٹھ جاؤں! لیکن پہلے رسول اللہ ﷺ سے مشورہ کروں گا، جب اس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہ بات بیان کی تو آپ ﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرما دیا اور فرمایا: ”اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا گھر میں ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہارے گناہ معاف کر کے جنت میں داخل کر دے! اللہ کے راستہ میں جہاد کرو، جس نے اونٹنی کا دودھ دوہنے کے وقت کے برابر اللہ کے راستہ میں جہاد کیا اس کے لیے جنت واجب ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مُقَامُ الرَّجُلِ فِي الصَّفِّ - أَيْ فِي سَبِيلِ اللهِ - أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ رَجُلٍ سِتِّينَ سَنَةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی شخص کا اللہ کے راستہ میں صف میں کھڑا ہونا اس کی ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي مَعْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ أَكْتُمُكُمُوهُ ضِنًّا بِكُمْ، قَدْ بَدَا لِي أَنْ أُبْدِيَهُ نَصِيحَةً لَكُمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَوْمُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللهِ كَأَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ فَلْيَنْظُرْ مِنْكُمْ كُلُّ امْرِئٍ لِنَفْسِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو صالح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مسجد خیف میں تھے، فرمایا: اے لوگو! میں نے ایک حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے جو میں نے تم سے پوشیدہ رکھی، لیکن اب میں نصیحت کے وقت ظاہر کر رہا ہوں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دن اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ایک ہزار دن کے برابر ہے تو ہر انسان اپنے بارے میں سوچے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو الْجَمَاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ائْذَنْ لِي فِي السِّيَاحَةِ، فَقَالَ: " إِنَّ سِيَاحَةَ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے سیر و سیاحت کی اجازت دیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کی سیر و سیاحت اللہ کے راستے میں جہاد کرنے میں ہے۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو الْجَمَاهِرِ، ثنا الْهَيْثَمُ، يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ائْذَنْ لِي فِي الزِّنَى. قَالَ: فَهَمَّ مَنْ كَانَ قُرْبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَنَاوَلُوهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعُوهُ". ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْنُهْ، أَتُحِبُّ أَنْ يُفْعَلَ ذَلِكَ بِأُخْتِكَ؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: " فَبِابْنَتِكَ"؟ قَالَ: لَا. فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ بِكَذَا وَكَذَا، كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ لَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَاكْرَهْ مَا كَرِهَ اللهُ وَأَحِبَّ لِأَخِيكَ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَادْعُ اللهَ أَنْ يُبَغِّضَ إِلِيَّ النِّسَاءَ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ بَغِّضْ إِلَيْهِ النِّسَاءَ". قَالَ: فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ بَعْدَ لَيَالٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا مِنْ شَيْءٍ أَبْغَضُ إِلِيَّ مِنَ النِّسَاءِ فَائْذَنْ لِي بِالسِّيَاحَةِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ سِيَاحَةَ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے (بدکاری) کی اجازت طلب کی۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے قریب بیٹھے ہوئے افراد نے اس کو پکڑنے کی کوشش کی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم اسے چھوڑ دو۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب ہوجاؤ، کیا آپ کو یہ پسند ہے کہ آپ کی بہن سے زنا کیا جائے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تیری بیٹی سے؟“ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ بار بار اسے یہ کہتے رہے تو وہ ہر مرتبہ نفی میں جواب دیتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو بھی ناپسند کر اس بات کو جس کو اللہ ناپسند کرتے ہیں اور اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کر جو تو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔“ اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا کریں کہ اللہ میرے دل میں عورتوں سے نفرت پیدا کر دے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ ابْغِضْهُنَّ إِلَيْهِ» ”اے اللہ! تو عورتوں کو اس کے لیے متنفر فرما۔“ راوی کہتے ہیں کہ چند دنوں کے بعد وہ پھر واپس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! عورتوں سے زیادہ بری چیز میرے نزدیک کوئی نہیں، اب آپ مجھے سیر و تفریح کی اجازت دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کی سیر و سیاحت جہاد فی سبیل اللہ میں ہے۔“
حَدَّثَنَا الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَبِي وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ أَبِي اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ أَبَدًا، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک پیٹ میں اکٹھے نہیں ہو سکتے اور بخل اور ایمان کسی آدمی کے دل میں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔“