السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: في فضل الجهاد في سبيل الله باب: اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18488
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، أَنَّ أَبَا حُصَيْنٍ حَدَّثَهُ أَنَّ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلِّمْنِي عَمَلًا يَعْدِلُ الْجِهَادَ. قَالَ: " لَا أَجِدُهُ ". ثُمَّ قَالَ: فَقَالَ: " هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ أَنْ تَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَتَقُومَ وَلَا تَفْتُرَ وَتَصُومَ وَلَا تُفْطِرَ؟ " قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاهِدِينَ يَسْتَنُّ فِي طُولِهِ فَيُكْتَبُ لَهُ حَسَنَاتٍ. لَفْظُ حَدِيثِ جَعْفَرٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ عَفَّانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے کوئی ایسا عمل سکھا دیجیے جو جہاد کے برابر ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ایسا عمل نہیں پاتا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس کی طاقت رکھتے ہو کہ جب مجاہد (جہاد کے لیے) نکلے تو تم مسجد میں داخل ہو جاؤ اور (نماز میں) کھڑے رہو اور سستی نہ کرو، اور روزے رکھو اور افطار نہ کرو؟“ اس نے کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجاہد کا گھوڑا اپنی رسی میں اچھلتا کودتا ہے تو اس کے لیے (بھی) نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔