السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: في فضل الجهاد في سبيل الله باب: اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18486
وَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِنْ قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللهِ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَقْعُدُوا بَعْدِي ".حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے! اگر میں لوگوں پر مشقت کا خیال نہ کرتا تو میں کسی ایسے سریہ سے پیچھے نہ رہتا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، لیکن میں ان کے لیے سواریوں کا انتظام نہیں کر پاتا اور نہ ہی وہ اتنی وسعت پاتے ہیں کہ وہ میرے پیچھے آسکیں اور نہ ہی ان کو میرے پیچھے رہنا اچھا لگتا ہے۔“