السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الأرض إذا كانت صلحا رقابها لأهلها وعليها خراج يؤدونه فأخذها منهم مسلم بكراء باب: وہ زمین جو صلح کے ذریعے حاصل ہو، اس کی ملکیت اس کے مالکان کی ہو اور ان پر خراج ہو جسے وہ ادا کرتے ہوں، پھر کوئی مسلمان اسے ان سے کرائے پر لے لے (تو اس کا حکم)۔
حدیث نمبر: 18397
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ⦗٢٣٦⦘ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ يَأْخُذُ الْأَرْضَ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ بِمَا عَلَيْهَا مِنَ الْخَرَاجِ يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَوْ لَا يَنْبَغِي لِمُسْلِمٍ أَنْ يَكْتُبَ عَلَى نَفْسِهِ الذُّلَّ وَالصَّغَارَ ".حافظ ثناء اللہ
نافع، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو ذمی آدمی سے زمین خرید لیتا ہے کہ کیا اس کے ذمہ جزیہ ہے؟ تو وہ فرماتے ہیں: کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے اوپر اس ذلت کو مسلط کرے۔