کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: وہ زمین جو صلح کے ذریعے حاصل ہو، اس کی ملکیت اس کے مالکان کی ہو اور ان پر خراج ہو جسے وہ ادا کرتے ہوں، پھر کوئی مسلمان اسے ان سے کرائے پر لے لے (تو اس کا حکم)۔
حدیث نمبر: 18394
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا بَأْسَ كَمَا يَسْتَأْجِرُ مِنْهُمْ إِبِلَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ وَرَقِيقَهُمْ وَمَا دَفَعَ إِلَيْهِمْ أَوْ إِلَى السُّلْطَانِ بِوِكَالَتِهِمْ، فَلَيْسَ بِصَغَارٍ عَلَيْهِ إِنَّمَا هُوَ دَيْنٌ عَلَيْهِ يُؤَدِّيهِ ⦗235⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْحَدِيثُ الَّذِي يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْبَغِي لِمُسْلِمٍ أَنْ يُؤَدِّيَ خَرَاجًا وَلَا لِمُشْرِكٍ أَنْ يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، إِنَّمَا هُوَ خَرَاجُ الْجِزْيَةِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدِ اتَّخَذَ أَرْضَ الْخَرَاجِ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْوَرَعِ وَالدِّينِ وَكَرِهَهُ قَوْمٌ احْتِيَاطًا قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا الْكَرَاهِيَةُ فَفِيمَا.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں، جیسے وہ ان (کافروں) سے ان کے اونٹ، ان کے گھر اور ان کے غلام کرائے پر لیتا ہے، اور جو کچھ وہ انہیں یا ان کی وکالت کی بنا پر حاکم کو ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لیے ذلت کی بات نہیں، بلکہ یہ تو ایک قرض ہے جو اس کے ذمے ہے اور وہ اسے ادا کرتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور وہ حدیث جو نبی کریم ﷺ سے روایت کی جاتی ہے کہ: ’کسی مسلمان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ خراج ادا کرے اور نہ کسی مشرک کے لیے (مناسب ہے) کہ وہ مسجد حرام میں داخل ہو۔‘ تو اس سے مراد صرف جزیہ کا خراج ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اہل تقویٰ اور دین داروں میں سے کچھ لوگوں نے خراجی زمین لی ہے، اور کچھ لوگوں نے احتیاطاً اسے ناپسند کیا ہے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رہی کراہت، تو وہ اس (روایت) میں ہے جو...
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور وہ حدیث جو نبی کریم ﷺ سے روایت کی جاتی ہے کہ: ’کسی مسلمان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ خراج ادا کرے اور نہ کسی مشرک کے لیے (مناسب ہے) کہ وہ مسجد حرام میں داخل ہو۔‘ تو اس سے مراد صرف جزیہ کا خراج ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اہل تقویٰ اور دین داروں میں سے کچھ لوگوں نے خراجی زمین لی ہے، اور کچھ لوگوں نے احتیاطاً اسے ناپسند کیا ہے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رہی کراہت، تو وہ اس (روایت) میں ہے جو...
حدیث نمبر: 18394
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ سُمَيْعٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ عَقَدَ الْجِزْيَةَ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عبداللہ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جس کے ذمہ جزیہ ہو تو رسول اللہ ﷺ اس سے بری ہیں جو اس کے ذمہ ہے۔“
حدیث نمبر: 18395
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي شَبِيبُ بْنُ نُعَيْمٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِجِزْيَتِهَا فَقَدِ اسْتَقَالَ هِجْرَتَهُ، وَمَنْ نَزَعَ صَغَارَ كَافِرٍ مِنْ عُنُقِهِ فَجَعَلَهُ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ وَلَّى الْإِسْلَامَ ظَهْرَهُ " قَالَ سِنَانٌ: فَسَمِعَ مِنِّي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ لِي: أَشَبِيبٌ حَدَّثَكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِذَا قَدِمْتَ فَسَلْهُ فَلْيَكْتُبْ إِلِيَّ بِالْحَدِيثِ، قَالَ: فَكَتَبَ لَهُ، فَلَمَّا قَدِمْتُ سَأَلَنِي ابْنُ مَعْدَانَ الْقِرْطَاسَ فَأَعْطَيْتُهُ، فَلَمَّا قَرَأَهُ تَرَكَ مَا فِي يَدَيْهِ مِنَ الْأَرْضِ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الْيَزَنِيُّ، لَيْسَ هُوَ صَاحِبَ شُعْبَةَ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَانِ الْحَدِيثَانِ إِسْنَادُهُمَا إِسْنَادٌ شَامِيٌّ، وَالْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ لَمْ يَحْتَجَّا بِمِثْلِهِمَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جزیہ والی زمین حاصل کی اس نے اپنی ہجرت ختم کرلی اور جس نے کافر کی گردن سے ذلت کو اتار کر اپنے گلے ڈال لیا، اس نے اسلام سے پیٹھ پھیرلی۔“
حدیث نمبر: 18396
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَحَجَّاجٌ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ هُوَ ابْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي أَكُونُ بِالسَّوَادِ فَأَتَقَبَّلُ وَلَا أُرِيدُ أَنْ أَزْدَادَ، إِنَّمَا أُرِيدُ أَنْ أَدْفَعَ عَنْ نَفْسِي، فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ} [التوبة: ٢٩] إِلَى {حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ} [التوبة: ٢٩] عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ " لَا تَنْزِعِ الصَّغَارَ مِنْ أَعْنَاقِهِمْ فَتَجْعَلَهُ فِي عُنُقِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، جب کسی شخص نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”میں سواد کا رہنے والا ہوں، میں قبول تو کرتا ہوں لیکن زیادتی کا ارادہ نہیں رکھتا، میں اپنے دفاع کا ارادہ کرتا ہوں۔“ انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ [سورة التوبة: 29] ”تم ان لوگوں سے لڑائی کرو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ۔۔۔ یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں تو کوئی بھی ان کی ذلت کو اتار کر اپنی گردن پر مت ڈالے۔“
حدیث نمبر: 18397
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ⦗٢٣٦⦘ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ يَأْخُذُ الْأَرْضَ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ بِمَا عَلَيْهَا مِنَ الْخَرَاجِ يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَوْ لَا يَنْبَغِي لِمُسْلِمٍ أَنْ يَكْتُبَ عَلَى نَفْسِهِ الذُّلَّ وَالصَّغَارَ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو ذمی آدمی سے زمین خرید لیتا ہے کہ کیا اس کے ذمہ جزیہ ہے؟ تو وہ فرماتے ہیں: کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے اوپر اس ذلت کو مسلط کرے۔
حدیث نمبر: 18398
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ الْأَرْضَ كُلَّهَا لِي بِجِزْيَةٍ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ أُقِرُّ فِيهَا بِالصَّغَارِ عَلَى نَفْسِي ".
حافظ ثناء اللہ
میمون بن مہران حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ جزیہ کی تمام زمین مجھے پانچ درہم کے بدلے ملے کہ میں اپنے آپ کو اس ذلت میں برقرار رکھوں۔
حدیث نمبر: 18399
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ قَالَ: " مَنْ أَقَرَّ بِالطَّسْقِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالصَّغَارِ ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ: ”جس نے ٹیکس کا اقرار کیا تو اس نے ذلت کا اقرار کیا۔“