السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الأرض إذا كانت صلحا رقابها لأهلها وعليها خراج يؤدونه فأخذها منهم مسلم بكراء باب: وہ زمین جو صلح کے ذریعے حاصل ہو، اس کی ملکیت اس کے مالکان کی ہو اور ان پر خراج ہو جسے وہ ادا کرتے ہوں، پھر کوئی مسلمان اسے ان سے کرائے پر لے لے (تو اس کا حکم)۔
حدیث نمبر: 18398
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ الْأَرْضَ كُلَّهَا لِي بِجِزْيَةٍ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ أُقِرُّ فِيهَا بِالصَّغَارِ عَلَى نَفْسِي ".حافظ ثناء اللہ
میمون بن مہران حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ جزیہ کی تمام زمین مجھے پانچ درہم کے بدلے ملے کہ میں اپنے آپ کو اس ذلت میں برقرار رکھوں۔