السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الأرض إذا كانت صلحا رقابها لأهلها وعليها خراج يؤدونه فأخذها منهم مسلم بكراء باب: وہ زمین جو صلح کے ذریعے حاصل ہو، اس کی ملکیت اس کے مالکان کی ہو اور ان پر خراج ہو جسے وہ ادا کرتے ہوں، پھر کوئی مسلمان اسے ان سے کرائے پر لے لے (تو اس کا حکم)۔
حدیث نمبر: 18396
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَحَجَّاجٌ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ هُوَ ابْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي أَكُونُ بِالسَّوَادِ فَأَتَقَبَّلُ وَلَا أُرِيدُ أَنْ أَزْدَادَ، إِنَّمَا أُرِيدُ أَنْ أَدْفَعَ عَنْ نَفْسِي، فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ} [التوبة: ٢٩] إِلَى {حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ} [التوبة: ٢٩] عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ " لَا تَنْزِعِ الصَّغَارَ مِنْ أَعْنَاقِهِمْ فَتَجْعَلَهُ فِي عُنُقِكَ ".حافظ ثناء اللہ
حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، جب کسی شخص نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”میں سواد کا رہنے والا ہوں، میں قبول تو کرتا ہوں لیکن زیادتی کا ارادہ نہیں رکھتا، میں اپنے دفاع کا ارادہ کرتا ہوں۔“ انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ [سورة التوبة: 29] ”تم ان لوگوں سے لڑائی کرو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ۔۔۔ یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں تو کوئی بھی ان کی ذلت کو اتار کر اپنی گردن پر مت ڈالے۔“