السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الأرض إذا كانت صلحا رقابها لأهلها وعليها خراج يؤدونه فأخذها منهم مسلم بكراء باب: وہ زمین جو صلح کے ذریعے حاصل ہو، اس کی ملکیت اس کے مالکان کی ہو اور ان پر خراج ہو جسے وہ ادا کرتے ہوں، پھر کوئی مسلمان اسے ان سے کرائے پر لے لے (تو اس کا حکم)۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي شَبِيبُ بْنُ نُعَيْمٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِجِزْيَتِهَا فَقَدِ اسْتَقَالَ هِجْرَتَهُ، وَمَنْ نَزَعَ صَغَارَ كَافِرٍ مِنْ عُنُقِهِ فَجَعَلَهُ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ وَلَّى الْإِسْلَامَ ظَهْرَهُ " قَالَ سِنَانٌ: فَسَمِعَ مِنِّي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ لِي: أَشَبِيبٌ حَدَّثَكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِذَا قَدِمْتَ فَسَلْهُ فَلْيَكْتُبْ إِلِيَّ بِالْحَدِيثِ، قَالَ: فَكَتَبَ لَهُ، فَلَمَّا قَدِمْتُ سَأَلَنِي ابْنُ مَعْدَانَ الْقِرْطَاسَ فَأَعْطَيْتُهُ، فَلَمَّا قَرَأَهُ تَرَكَ مَا فِي يَدَيْهِ مِنَ الْأَرْضِ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الْيَزَنِيُّ، لَيْسَ هُوَ صَاحِبَ شُعْبَةَ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَانِ الْحَدِيثَانِ إِسْنَادُهُمَا إِسْنَادٌ شَامِيٌّ، وَالْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ لَمْ يَحْتَجَّا بِمِثْلِهِمَا وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جزیہ والی زمین حاصل کی اس نے اپنی ہجرت ختم کرلی اور جس نے کافر کی گردن سے ذلت کو اتار کر اپنے گلے ڈال لیا، اس نے اسلام سے پیٹھ پھیرلی۔“
سنان کہتے ہیں: خالد بن معدان نے مجھ سے یہ حدیث سنی تو مجھ سے کہا: ”کیا یہ حدیث تمہیں شبیب نے بیان کی ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”جب تم ان کے پاس جاؤ تو ان سے کہنا کہ یہ حدیث مجھے لکھ کر بھیجیں۔“ چنانچہ انہوں نے ان کے لیے لکھ دی۔ جب میں واپس آیا تو ابن معدان نے مجھ سے وہ کاغذ مانگا، میں نے انہیں دے دیا۔ جب انہوں نے اسے پڑھا تو یہ سن کر جو زمین ان کے قبضے میں تھی اسے چھوڑ دیا۔
ان دونوں حدیثوں کی سند شامی ہے اور بخاری و مسلم نے اس جیسی سند سے دلیل نہیں لی، واللہ اعلم۔