السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الأرض إذا كانت صلحا رقابها لأهلها وعليها خراج يؤدونه فأخذها منهم مسلم بكراء باب: وہ زمین جو صلح کے ذریعے حاصل ہو، اس کی ملکیت اس کے مالکان کی ہو اور ان پر خراج ہو جسے وہ ادا کرتے ہوں، پھر کوئی مسلمان اسے ان سے کرائے پر لے لے (تو اس کا حکم)۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا بَأْسَ كَمَا يَسْتَأْجِرُ مِنْهُمْ إِبِلَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ وَرَقِيقَهُمْ وَمَا دَفَعَ إِلَيْهِمْ أَوْ إِلَى السُّلْطَانِ بِوِكَالَتِهِمْ، فَلَيْسَ بِصَغَارٍ عَلَيْهِ إِنَّمَا هُوَ دَيْنٌ عَلَيْهِ يُؤَدِّيهِ ⦗235⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْحَدِيثُ الَّذِي يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْبَغِي لِمُسْلِمٍ أَنْ يُؤَدِّيَ خَرَاجًا وَلَا لِمُشْرِكٍ أَنْ يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، إِنَّمَا هُوَ خَرَاجُ الْجِزْيَةِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدِ اتَّخَذَ أَرْضَ الْخَرَاجِ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْوَرَعِ وَالدِّينِ وَكَرِهَهُ قَوْمٌ احْتِيَاطًا قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا الْكَرَاهِيَةُ فَفِيمَا.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں، جیسے وہ ان (کافروں) سے ان کے اونٹ، ان کے گھر اور ان کے غلام کرائے پر لیتا ہے، اور جو کچھ وہ انہیں یا ان کی وکالت کی بنا پر حاکم کو ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لیے ذلت کی بات نہیں، بلکہ یہ تو ایک قرض ہے جو اس کے ذمے ہے اور وہ اسے ادا کرتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور وہ حدیث جو نبی کریم ﷺ سے روایت کی جاتی ہے کہ: ’کسی مسلمان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ خراج ادا کرے اور نہ کسی مشرک کے لیے (مناسب ہے) کہ وہ مسجد حرام میں داخل ہو۔‘ تو اس سے مراد صرف جزیہ کا خراج ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اہل تقویٰ اور دین داروں میں سے کچھ لوگوں نے خراجی زمین لی ہے، اور کچھ لوگوں نے احتیاطاً اسے ناپسند کیا ہے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رہی کراہت، تو وہ اس (روایت) میں ہے جو...
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ سُمَيْعٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ عَقَدَ الْجِزْيَةَ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".ابو عبداللہ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جس کے ذمہ جزیہ ہو تو رسول اللہ ﷺ اس سے بری ہیں جو اس کے ذمہ ہے۔“